خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 525 of 682

خطبات وقف جدید — Page 525

525 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع اس سال میں آنے والے رمضان مبارک میں جمعتہ المبارک کا دن پانچ دفعہ آیا ہے جو بہت شاذ ہوتا ہے۔باوجود اس کے کہ میں کا مہینہ نہیں 29 کا ہے مگر اس 29 کے مہینے میں بھی پانچ دفعہ جمعہ آیا ہے اور آخری عشرہ میں جمعۃ المبارک دو بار آیا ہے۔اس سال میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے Friday the 10th یعنی دس تاریخ کا مبارک جمعہ دو بار رونما ہوا ہے۔پہلا موقع دس ستمبر کو تھا اور دوسرا دس دسمبر کو تھا جس روز رمضان کے مہینہ کا آغاز ہوا۔یہ Friday the 10th نے جو برکتیں ہمارے لئے چھوڑی ہیں اور خاص طور پر میری صحت پر اسکا جو غیر معمولی اثر رونما ہوا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک نشان ہے۔اس سال میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم اور احسان سے ایک کروڑ آٹھ لاکھ بیس ہزار دو سو چھیں افراد کے حلقہ بگوش احمدیت ہونے کا عظیم الشان نشان دکھایا۔تاریخ ادیانِ عالم میں اس قسم کا واقعہ پہلے کبھی رونما نہیں ہوا۔احمدیت کے دائمی مرکز قادیان میں اس سال منعقد ہونے والے جلسہ سالانہ میں گل حاضری اکیس ہزار سے زائد تھی جن میں سولہ ہزار نو مبائعین تھے۔پس یہ بھی ایک غیر معمولی واقعہ ہے کہ اکیس ہزار آدمی بھی بہت بڑی بات ہے قادیان کے لئے مگر اس میں سولہ ہزار نو مبائعین ہوں۔اس تعداد میں نو مبائعین کی جلسہ سالانہ میں شمولیت فتح و نصرت کا ایک اور سنگ میل ہے۔جہاں تک مسلم ٹیلی ویژن احمد یہ کا تعلق ہے اس سال پہلی بارڈیجیٹل ٹرانسمیشن کو اپنا کر ترقی کے ایک نئے دور میں MTA داخل ہوئی ہے۔باقی دنیا میں جو بڑی بڑی ٹیلی وژن کمپنیاں ہیں وہ بھی ڈیجیٹل پر جارہی ہیں اور آئندہ ڈیجیٹل کا زمانہ آنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس سال جماعت احمدیہ کو بھی یہ توفیق مل گئی۔اور امسال 11 اگست کو مکمل سورج گرہن ہوا جو سائنسی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔اور اسی سورج گرہن کے موقع پر مجھے بھی پہلی بار نماز خسوف پڑھانے کی توفیق ملی۔امسال 22 / دسمبر کو رمضان مبارک کی چودھویں رات کا چاند غیر معمولی طور پر بڑا اور معمول سے بہت زیادہ روشن ہو کر چھکا۔اس کے متعلق سائنسدان کہتے ہیں یہ واقعہ ایک سو تینتیس سال کے بعد ہوا اور چاند اتنا روشن تھا کہ اس کا نور کناروں سے چھلک رہا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق بخشی کہ باوجود اس کے کہ یہ بادلوں کا مہینہ ہے اس وقت بالکل کوئی بادل نہیں تھا اور بالکل صاف یہ چاند لوگوں کو دکھائی دے رہا تھا جو نماز تہجد کے لئے اٹھے ہوئے تھے۔مطلب ہے کہ جو تہجد پڑھتا تھا اسکو بھی اور جو دوسرے تھے ان کو بھی یہ چاند صاف دکھائی دے رہا تھا۔آئندہ ایک سوسال تک سائنسدانوں کا خیال ہے کہ دوبارہ ایسا بھرا ہوا چاند دکھائی نہیں دے گا۔اب میں آنحضور ﷺ کی چند احادیث آپ کے سامنے رکھتا ہوں جن میں نمازوں پر بھی زور