خطبات وقف جدید — Page 498
498 حضرت خلیفہ المسح الرابع معاملے میں کنجوسی کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کے اموال برباد ہونے شروع ہو جاتے ہیں تا کہ ٹھوکر کھا کر ان کو نصیحت آئے اور بسا اوقات ایسے لوگوں نے بالآخر مجھے خط لکھا کہ ہم یہ کیا کرتے تھے لیکن اب ہمیں نصیحت آگئی ہے اور جب سے ہم نے خدا کی راہ میں کنجوسی چھوڑی ہے ہمارے اموال میں دوبارہ برکت پڑنی شروع ہو گئی ہے۔لیکن وہ لوگ جن کو خدا تعالی ضائع سمجھتا ہے، بے کارخشک لکڑیاں جانتا ہے ان کو ضرور کاٹ کے الگ پھینک دیا کرتا ہے اور پھر ان کے اموال ترقی کرتے ہیں اور کرتے چلے جاتے ہیں لیکن جماعت کو ان کی کوڑی کی بھی پرواہ نہیں ہوتی وہ اپنے اموال سمیت جہاں چاہیں چلے جائیں جماعت کے خزانے میں ایک آنے کی بھی کمی نہیں کر سکتے اور ان کی جگہ اللہ اور بھیج دیتا ہے۔پس یہ وہ سلوک ہے جو ہم سے جاری ہے اور یہ حدیث دراصل اسی مضمون کو بیان کر رہی ہے۔حضرت ابن مسعود بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دو شخصوں کے سوا کسی پر رشک نہیں کرنا چاہئے۔وہ کون ہیں جن پر رشک کرنے کی اجازت ہے۔ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اسے راہ حق میں خرچ کر دیا۔ایسے شخص پر بیشک رشک کروا گر چہ ایسے اشخاص اپنے اس خرچ کو چھپاتے ہیں، چھپانے کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ ظاہر ہو بھی جاتا ہے اور اللہ کی تقدیر سے ظاہر کر دیا کرتی ہے بعض دفعہ اس لئے تا کہ دوسروں کو نصیحت ہو۔پس جب ان کو دیکھو تو ان پر رشک کرو۔دوسرا ایسا شخص جسے اللہ تعالیٰ نے سمجھ ، دانائی اور علم و حکمت دی ہو جس کی مدد سے وہ لوگوں کے فیصلے کرتا ہو اور لوگوں کو سکھاتا ہو۔تو دانائی اور علم و حکمت کو بنی نوع انسان کے حق میں استعمال کرنا چاہئے اور یہ بھی ایک ایسا خرج ہے جس کے نتیجہ میں دانائی اور علم وحکمت میں ترقی ہوتی ہے یہ خدا کے عطا کردہ مال کی طرح جو ہمیشہ بڑھتا ہے یہ بھی بڑھتی رہتی ہے اور جتنا بھی آپ بنی نوع انسان کی خاطر کچھ خرچ کریں یا جو کچھ آپ نے پایا ہے اس میں شریک کرنے کی کوشش کریں تو اللہ تعالیٰ اس میں کمی نہیں آنے دے گا۔میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا بعض عطائی نسخے والے سینہ بسینہ لوگوں کی بھلائی کے راز لئے پھرتے ہیں اور چھپا کے رکھتے ہیں یہ صرف مشرق کا حصہ نہیں۔مغرب میں بھی بہت بڑی بڑی کمپنیاں اسی جرم میں مبتلا ہوتی ہیں کہ وہ راز کی باتیں جس کے نتیجہ میں ان کا کوئی مال دنیا میں شہرت پالیتا ہے اسے اتنی مضبوطی سے قفل بندر کھتے ہیں کہ کسی اور میں طاقت ہی نہیں ہوتی کہ اس کو پیش کر سکے حالانکہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اور بھی رزق عطا کر دینا تھا۔لیکن اس طرف ان کی نظر نہیں جاتی۔ہمارے ملک میں بھی ایسے لوگ ہیں کوئی نسخہ ہی ہاتھ آ گیا تو سنبھال سنبھال کے رکھتے ہیں۔مجھے ملنے والے دلچسپ خطوں میں بعض ایسے خط بھی ہوتے ہیں کہ یہ نسخہ اب ہم آپ کو بتارہے ہیں اسے احتیاط