خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 496 of 682

خطبات وقف جدید — Page 496

496 حضرت خلیفہ المسیح الرابع کچھ بھی جھگڑا باقی نہیں رہتا، کوئی مخمصہ باقی نہیں رہتا۔یہ ایک تقدیر الہی ہے جس میں بھی کوئی تبدیلی آپ نہیں دیکھیں گے۔تاخیر ہو جایا کرتی ہے، دیر تو ہوتی ہے مگر اندھیر نہیں۔خدا کا دن لازماً بڑے مضبوط قدموں سے آگے بڑھا کرتا ہے اور جب ایک دفعہ دن پھیلنا شروع ہو جائے تو اس کی روشنی کی راہ میں کوئی دنیا کا اندھیر ا حائل نہیں ہوا کرتا۔وَ هُوَ عَلِيمٌ بَذَاتِ الصُّدُور اور وہ دلوں کے حال کو جانتا ہے جولوگ بھی اللہ تعالیٰ پر اس قسم کا تو کل نہ رکھیں جس کی تفصیل ان آیات نے بیان فرمائی ہے تو وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ دلوں کے حال کو جانتا ہے اور وہ لوگ جن کے دل میں یہی باتیں ہیں ان کو بھی اس کا ڈھنڈورا پیٹنے کی ضرورت نہیں۔اللہ دلوں کے حال کو جانتا ہے۔وہ ہر تو کل کرنے والے سے وہی سلوک فرمائے گا جو ہمیشہ فرمایا کرتا ہے۔امِنُوا بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَأَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ فِيْهِ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور خرچ کرو مِمَّا جَعَلَكُم جو اس نے تمہارے لئے بنایا۔جن جائیدادوں کا یعنی جو بھی مال و متاع دنیا کے ہیں یا جو بھی طاقتیں عطا ہوئی ہیں ان کا تمہیں مالک بنادیا ہے استخلاف کا مضمون پہلی قوموں کے ورثے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔وہ چیزیں جو پہلی قوموں کو عطا کی گئیں تھیں وہ اب لاز ما تمہیں عطا کی جائیں گی۔اور اس بات پر متنبہ ہو جاؤ کہ خدا تعالیٰ تم سے توقع نہیں رکھتا کہ ان طاقتوں کو ، ان عظمتوں کو جود نیا میں تمہیں عطا کی جائیں گی ان کو اپنے ہاتھ سے ضائع کر دو اور اس دن کو پھر اندھیروں میں تبدیل کر دو۔اگر یہ ہوا تو تم ذمہ دار ہو فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ أَنْفَقُوْالَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ پس یا درکھو کہ وہ لوگ تم میں سے جو ایمان لاتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں ، یہاں خرچ سے مراد صرف دنیاوی خرچ نہیں بلکہ روحانی طور پر اپنی تمام طاقتیں ، تمام دل و جان اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے لئے اَجْرٌ كَبِيرٌ بہت بڑا اجر مقدر ہے۔(سورۃ الحدید : 6 تا8) اب رمضان کا مہینہ ہے اور یہ مضمون جو دراصل تو وقف جدید کے لئے شروع کیا گیا تھا میں اس کو رمضان کے ساتھ ملانا چاہتا ہوں تا کہ رمضان کی برکتوں میں وقف جدید اور وقف جدید کی برکتوں میں صلى الله رمضان کی برکتیں شامل ہو جائیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی می ﷺ کے متعلق بخاری کتاب الزکوۃ یہ بیان کرتی ہے اور یہ قول حضرت ابو ہریرۃ" سے مروی ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر صبح دوفرشتے اترتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے اے اللہ خرچ کرنے والے تھی کو اور دے اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے اور پیدا کر۔دوسرا کہتا ہے اے اللہ روک رکھنے والے کنجوس کو ہلاکت دے اور اس کا مال و متاع برباد کر۔اس میں سے جو پہلا حصہ ہے وہ تو ظاہر وباہر ہے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو خرچ کرنے والے ہیں خصوصیت سے رمضان مبارک میں ، ان کے لئے فرشتے دعائیں کرتے ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کے الله