خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 495 of 682

خطبات وقف جدید — Page 495

495 حضرت خلیفہ المسیح الرابع ہے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے کوئی اس بادشاہی میں اس کا شریک نہیں۔اس حقیقت کا دل میں گڑ جاتا یہی تو حید ہے۔وَ اِلَى اللهِ تُرْجَعُ الأمور نہ صرف یہ کہ بادشاہی ہے بلکہ تمام امور تمام اہم باتیں اسی کی طرف لوٹائی جائیں گی۔پس اس سے مفر نہیں۔خدا تعالیٰ کی بادشاہی کوئی دنیا کی بادشاہی نہیں جس سے آپ بھاگ کر کہیں منہ چھپا سکیں دنیا میں بھی کوئی مفر نہیں آسمانوں میں بھی کوئی مفر نہیں اور اگر ہوتا بھی تو آخر اسی کی طرف لوٹنا ہے۔پس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر ظاہر ہونے میں بعض دفعہ دیر بھی ہو جاتی ہے لیکن آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مخاطب کر کے یقین دلایا تھا کہ دیکھ تیرے مخالفین کی پکڑ اگر یہاں نہ بھی ہوگی تو تو جانتا ہے کہ آخر ضرور ہوگی۔آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ فرمانا دراصل ایک گہری حکمت ہم سب کے لئے رکھتا ہے۔آنحضور ﷺ کی اس پر پوری تسلی ہو گئی تھی۔ایک ذرہ بھی قلق باقی نہیں رہا کیونکہ آپ آخرت پر یقین رکھتے تھے۔آپ کے لئے کوئی پکڑ یہاں ہو یا وہاں ہو محض ایک رسمی فاصلہ تھا ورنہ امر واقعہ یہی ہے کہ آپ کے نزدیک تو اس دنیا اور اس دنیا میں فرق ہی کوئی نہیں تھا اور جب یقین ہو تو پھر دشمنوں کی تعلی ، انکی ہنسیاں سب برکار، سب بے معنی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ إِلَى اللهِ تُرْجَعُ الأمُورُ آخر سب باتوں نے اس کی طرف لوٹنا ہے اس میں گھبراہٹ کی کیا ضرورت ہے۔یہ کامل تو کل ہے جو میں جماعت سے چاہتا ہوں اور ہر ممکن کوشش کرتا ہوں کہ میری جان اسی تو کل پہ جائے ایک ذرہ بھی خدا سے کسی قسم کا کوئی شکوہ دل میں نہیں پیدا ہونا چاہئے۔بیماریاں ہوں ،مصیبتیں ہوں ، دشمن کی تعلیاں ہوں یا دشمن سے قطع نظر زندگی کے مسائل ہوں اگر یہ دین آپ کا دین ہے جو اس آیت میں بیان ہوا ہے تو پھر آپ ہمیشہ تسکین کے سانس لیں گے اور مرتے وقت بھی آپ کو ایک ایسی قلبی تسکین حاصل ہوگی جو کسی اور کونصیب نہیں ہوسکتی۔اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُولِجُ الَّيْلَ فِی النَّهَارِ وَ يُولِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ تم دیکھتے نہیں کہ وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔اس میں دن کو رات میں داخل کرنا ایک خاص معنی رکھتا ہے وَيُولِجُ النَّهَارَ فِی الَّيْلِ یہ ایک ایسے دن کی طرف اشارہ ہے جومومنوں کا دن کبھی آکے واپس نہیں جایا کرتا۔عام طور پر اچھی بات قرآن کریم میں پہلے بیان کی جاتی ہے اور کچھ بُرائی کی خبر بعد میں بیان کی جاتی ہے لیکن جہاں اس ترتیب کو بدل دیا جائے وہاں لازما گہری حکمت ہوا کرتی ہے اور یہاں یہ حکمت پیشِ نظر ہے کہ مومنوں کی رات میں مومنوں کا دن داخل ہو جائے گا اور جب ہوگا تو پھر دوبارہ وہ رات میں تبدیل نہیں کیا جائے گا وہ ہمیشگی کا دن ہے جو ان پر طلوع ہوگا۔اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ اس مضمون کو بھی اچھی طرح سمجھ لیں گے اور اس کے بعد پھر ساری با تیں اللہ پر ہیں تمام تر توکل اللہ پر ہے۔