خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 491 of 682

خطبات وقف جدید — Page 491

491 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع والی ضرورتوں کے لئے کوئی تحریک کی جاسکتی ہے اور وہی کافی ہوگی۔اس وقت جو ہمیں زیادہ ضرورت ہے وہ البانیہ میں ہے جہاں بکثرت احمدیت پھیلی ہے۔اسی طرح وہ دوسرے مشرقی ممالک جہاں خدا تعالیٰ کی طرف سے توجہ ہورہی ہے ان میں البانین سپیکنگ دوسری قومیں دوسرے ممالک میں بستی ہیں۔پھر بوز نینز ہیں ان کی طرف بھی بہت توجہ ہے۔اُن کی بھی بہت توجہ ہے۔ان سب کا بنیادی حق ہے کہ وہاں مساجد بنائی جائیں وہاں مراکز قائم کئے جائیں وہاں تربیتی اجتماعات کا مستقل انتظام ہو اور انھیں میں سے معلم تیار کئے جائیں۔پس اس سال کے لئے میں جماعت کے سامنے پندرہ لاکھ ڈالر کی تحریک کرتا ہوں اور جیسا کہ میں نے آپ سے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ میں نے یہ نیت کی ہے۔اللہ تو یہ تو فیق عطا فرما دیتا ہے کہ جو بھی تحریک کرو اس کا سواں حصہ میں خود دوں۔اور یہ بتانے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ میں بتاؤں کہ میں یہ کر رہا ہوں یہ مقصد ہے کہ بعض لوگ بوجھ سمجھتے ہیں کہتے ہیں کہ نئی نئی تحریکیں پیش کی جارہی ہیں ان کے دل کی تسلی کے لئے ان کو بتا رہا ہوں کہ میں شامل ہوتا ہوں تو تحریک کرتا ہوں ورنہ میں یہ سمجھتا کہ مجھے حق نہیں تھا۔تو اس پہلو سے میرا تجربہ ہے کہ جب بھی زیادہ تحریکیں کی ہیں خدا نے مالی وسعتیں خود بخو د عطا کر دی ہیں تو اس لئے اس معاملے میں مجھے ذرہ بھی و ہم نہیں کہ میں کوئی ایسا بوجھ ڈال رہا ہوں جس کو جماعت اٹھا نہیں سکتی۔یہ جانتا ہوں کہ جب بھی کوئی مزید تحریک کی جاتی ہے اللہ میری وسعت کو بھی بڑھاتا ہے آپ کی وسعت کو بھی بڑھاتا ہے۔تو پھر اگر ضرورت حقہ ہے اور جائز ہے تو تحریک میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہئے مگر چونکہ عام چندوں کی ذمہ داریاں بہت جماعت نے اٹھا رکھی ہے اس لئے میں اس تحریک کو بھی بعض دوسری تحریکات کی طرح اس طرح پیش کر رہا ہوں کہ وہ سب احمدی جو عام چندوں میں حسب توفیق حصہ لے رہے ہیں اور ان کے لئے زیادہ بوجھ اٹھا نا ممکن نہیں ہے وہ محض تبرک کی خاطر کچھ نہ کچھ دے کر اس میں شامل ہو جائیں اور وہ صاحب حیثیت جن کو خدا تعالیٰ نے بڑی توفیق عطا فرمائی ہے وہ اپنی توفیق کے مطابق خود فیصلہ کریں اور وہ زیادہ تر اس کا عمومی بوجھ اٹھانے کے لئے آگے آئیں اور جیسا کہ میرا سابقہ تجربہ ہے یہ انشاء اللہ دیکھتے دیکھتے وعدے وصول ہو جائیں گے اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ پہلے سال دو تہائی اور دوسرے سال اس کا ایک تہائی وصولی کی صورت میں ہمیں مل جانا چاہئے کیونکہ فوری ضرورت جو اس سال کی ہے وہ ایک ملین کی تو لازماً ہے اور بعد کی اگلے سال کی ضرورت چندوں سے بچت کے علاوہ پانچ لاکھ کے قریب ہوگی اور جس رفتار سے چندے بڑھ رہے ہیں میں سمجھتا ہوں انشاء اللہ تعالیٰ آگے وہ ضرورتیں چندوں ہی سے