خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 490 of 682

خطبات وقف جدید — Page 490

490 حضرت خلیفہ امسیح الرابع رکھا اور جو نقشہ کھینچا ہے اپنے اس روحانی خواب کا وہ یہ ہے کہ جگہ جگہ بڑے بڑے اولیاء اور قطب پیدا ہو رہے ہیں۔دیہات میں اور گاؤں گاؤں میں رازی پیدا ہور ہے ہیں تو وقف جدید کی تحریک تو بالکل عمومی ، عام سی ایک دنیا کی نہیں دین کے لحاظ سے پسماندہ دیہات کی تحریک تھی مگر جو مقاصد تھے وہ اتنے بلند تھے کہ گاؤں گاؤں میں رازی پیدا ہوں گاؤں گاؤں میں اولیاء اللہ اور قطب پیدا ہونے شروع ہو جائیں اور فرمایا آغاز ہی میں آپ نے جو نقشہ کھینچا اپنے دل کا، فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ وقف جدید کے ذریعے گاؤں گاؤں اولیاء اللہ پیدا ہوں اور اس وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ میں خود نگرانی کروں اور باقی تنظیمیں ہیں انکی طرح نہیں بلکہ براہ راست معلمین پر نظر رکھوں، ان سے رابطہ رکھوں اور جب تک صحت نے توفیق دی آپ بہت حد تک یہ کام کرتے رہے۔پھر وہ توفیق نہ رہی کیونکہ بہت بیمار ہو گئے تھے مگر یہ آپ کے ارادے اور قط خواہشات تھیں۔پس اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ صدیقیت کا جو ذکر میں نے کیا ہے قرآن کریم کی آیت میں، یہ وہی صدیقیت والا نقشہ ہے جو حضرت مصلح موعود کے ذہن میں پیدا ہوا، وہی خواب ہے جو آپ نے دیکھا تھا۔وقف جدید کا ولایت سے تعلق قائم کرنا اور تعلق قائم رکھنا ضروری ہے۔آج ہی سوال و جواب کی مجلس میں کسی نے یہ سوال چھیڑا تو میں نے کہا دیکھیں ہم ولی تو نہیں پیدا کر سکتے کیونکہ ولایت تو صرف اللہ عطا کرتا ہے صدیق بھی کوئی زور بازو سے نہیں ہوسکتا، اللہ ہی عطا کرتا ہے مگر لوگوں کو یا ددلاتے رہنا چاہئے یہ کام ہمارا فرض ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وقف جدید کو پہلے سے بڑھ کر اس طرف متوجہ ہونا چاہئے کہ اپنے تمام کارکنوں پر نظر رکھیں اور یہ دیکھیں کہ جن جماعتوں میں وقف جدید کا کام ہورہا ہے وہاں اولیاء اللہ پیدا ہورہے ہیں کہ نہیں۔پس اگر یہ سب نظر بنار ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ پھر زیادہ بیدار مغزی کے ساتھ اپنے ذہن میں اس مقصد کو حاضر رکھتے ہوئے زیادہ امکان پیدا ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضورا ایسے بندے اس کی نگاہ میں آجائیں اور اس کا وہ قرب حاصل کریں جسے ولایت کہا جاتا ہے۔جہاں تک یورپ کی نئی ضرورتوں کا تعلق ہے اس میں وقف جدید کا کوئی خرچ نہیں ہورہا اور نہ ہی تحریک میں میں نے یہ ذکر کیا تھا کہ یورپ میں بھی خرچ کیا جائے مگر وہ ضرورتیں بالعموم خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ چندوں سے پوری ہو رہی ہیں اور جماعت یورپ جو اپنے چندے بڑھا رہی ہے اس کے ساتھ اکثر ان کی بڑھتی ہوئی ضرورتیں پوری ہو رہی ہیں مگر مشرقی یورپ میں ابھی تک جو مشن ہاؤسز کا قیام یعنی جماعتی مراکز کا قیام نئی مسجد میں بنانا یہ ایسے کام ہیں جن کے لئے اب ہمیں نئی مالی ضرورت درپیش ہے اور یہ چونکہ ایسی ضرورت نہیں ہے جو مستقل چندے کی شکل میں جماعت سے طلب کی جائے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ کبھی کبھارا اچانک پیدا ہونے