خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 475 of 682

خطبات وقف جدید — Page 475

475 حضرت خلیفہ مسیح الرابع ہوتی تھی کہ اس میں کون سی زیادہ باتیں آگئی ہیں جو اتنا لا ڈلا ہے اور بڑی بات یہ تھی کہ خدمت دین میں خصوصیت سے علمی خدمت میں مولوی صاحب کو ایک بڑے لمبے عرصے تک توفیق ملی ہے کہ مصلح موعودؓ کی مددکریں اور اس کا اظہار مختلف رنگ میں حضرت مصلح موعودؓ نے اس طرح بھی فرمایا کہ قادیان میں 1943ء ہی میں جو تعلیمی کمیٹی انجمن کی قائم فرمائی جس کے صدر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اس میں مولوی صاحب کو بھی اپنی کم عمری کے باوجود اس زمانے کے لحاظ سے اس کا ممبر بنایا اور باقی ممبر جو تھے ان کا اندازہ کریں کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے علاوہ ملک غلام فرید صاحب ، مولانا شمس صاحب۔ملک سیف الرحمان صاحب وغیرہ یہ اس کے ممبران تھے۔پھر ایک موقع پر آپ کو ناظم انخلا آبادی مقرر فرمایا گیا۔جامعۃ المبشرین میں 1949ء میں آپ بطور مدرس مقرر ہوئے اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ جماعت میں جو عہدے ہیں ان کی کوئی خاص قیمت نہیں ہے خدمت ہے بس۔کسی وقت بھی کسی شخص کو کبھی ناظر بنا دیا جائے کبھی استاد بنا دیا جائے مجال ہے جو کبھی ماتھے پر بل پڑیں کہ میں ناظر تھا اب میں استاد بنا دیا گیا ہوں۔اسی طرح شوق اور ولولے سے ہنستے کھیلتے مسکراتے ہوئے خدمت سرانجام دینے کی روح ہے جو جماعت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔تو وہاں میرے بھی استاد تھے۔قرآن کریم کیلئے ہمارے مولوی نورالحق صاحب بھی استاد ہوا کرتے تھے اور بڑی شفقت کا تعلق تھا بے تکلفی بھی تھی بچے ان کو تعلیم میں چھیڑا بھی کرتے تھے اور یہ مسکرا کر کافی حوصلے کا ثبوت دیا کرتے تھے۔یہ عجب قسم کے ہمارے تعلقات ہوتے تھے۔ادب بھی ہوتا تھا بے تکلفیاں بھی تھیں۔وقف جدید کا قیام ہوا ہے تو آغا ز ہی سے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آپ بھی مجلس وقف جدید کے ممبر رہے اور ہم ہمیشہ مالی معاملات میں حضرت مولوی صاحب کو ضرور مقرر کیا کرتے تھے کیونکہ یہ یقین تھا کہ یہ مالی نگرانی میں بہت اعلیٰ مرتبہ رکھتے ہیں اور یقین ہوتا تھا کہ کسی غلط خرچ کی اجازت ہی نہیں دیں گے۔اسلئے امانتوں پر دستخط کیلئے مولوی صاحب کا نام ضروری تھا اور اکا ؤنٹس کو دیکھنے کے بعد جب تسلی کر لیتے تھے کہ ہر چیز درست خرچ ہو رہی ہے تب دستخط کیا کرتے تھے۔پھر اراکین افتاء میں بھی آپ رہے۔دارالقضاء کے بورڈ میں بھی رہے اور قرآن پبلیکیشنز ، ناظم بک ڈپو، سیکرٹری نصرت پرنٹرز رہ کر اہم خدمات سرانجام دیں۔اب میں جو قرآن کریم کا اردو ترجمہ کر رہا ہوں اس میں بھی حسب سابق جیسا کہ حضرت مصلح موعوداً بعض علماء سے خدمتیں لیا کرتے تھے۔میں نے ایک ترجمۃ القرآن کمیٹی بنائی ہے ربوہ میں جو میرے ترجمے پر گہری نظر ڈالتے ہیں کہیں کوئی گرائمر کی غلطی میری لاعلمی کی وجہ سے رہ گئی ہو یا کوئی ایسا نکتہ جو میری توجہ میں لانا ضروری ہو وہ بڑی محنت سے اس پر غور کرتے ہیں تفصیل سے چھان بین کر کے اپنا