خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 474 of 682

خطبات وقف جدید — Page 474

474 حضرت خلیفہ مسیح الرابع حصہ ضرور دو اور فلاں میں اتنا دو اور فلاں چندے میں اتنا دو تو بعید نہیں کہ وہ چونکہ کمزور ہیں ان کی کمریں ٹوٹ جائیں اور ایمان میں بڑھنے کی بجائے وہ پہلے مقام سے بھی نیچے گر جائیں اس لئے حکمت کے تقاضے پورے کریں۔خدا نے جو انفاق فی سبیل اللہ کی روح بیان فرمائی ہے کہ وہ تعلق باللہ ہونی چاہیے اور انسان اپنے شوق سے محبت کے طور پر پیش کرے اس رو سے جتنا کوئی توفیق پاتا ہے اس توفیق کو مدنظر رکھ کر اس سے لیں۔لیکن کچھ نہ کچھ کی تو فیق تو ہر ایک رکھتا ہے۔اگر ایک معمولی رقم بھی وہ دے دے خوشی سے سے دے دے تو وہ بھی قبول کر لیں اور تعداد بڑھانے کی کوشش کریں۔تعدا دتو جماعت میں مالوں کی بھی بڑھ رہی ہے اور اَنفُس کی بھی بڑھ رہی ہے اس کے علاوہ ایک نظام ہے کہ جہاں تعداد کم بھی ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ موت کے ذریعے خدا کا قطعی اٹل نظام چلتا ہے کہ نیک ہوں یا بد ہوں سب نے بالآخر خدا کے حضور واپس جانا ہے۔جو ترقی کرنے والی قومیں ہیں ان کے زندوں کی تعداد مرنے والوں کے مقابل پر بہت تیزی سے بڑھتی ہے۔جو زندہ رہنے والی قومیں ہیں ان کے اندر صاحب ایمان اور پر خلوص اور تعلق باللہ رکھنے والوں کی تعداد ان کے مقابل پر بہت زیادہ بڑھتی ہے جو چھوڑ کر واپس خدا کے حضور حاضر ہورہے ہوتے ہیں۔حضرت مولوی ابوالمنیر صاحب کا میں نے ذکر کیا تھا ان کے علاوہ بھی کچھ جنازے ہیں۔مولوی امیر احمد صاحب در رویش قادیان پہلی صدیقہ صاحبہ امیر صاحب اسلام آباد علیم الدین صاحب کی بیگم ، چوہدری فضل الہی صاحب ربوہ۔منور احمد صاحب لون ہکر مہ سردار بیگم صاحبہ اہلیہ علی محمد صاحب۔یہ ہمارے شیر محمد کی بھا وجہ تھیں ،مکرم ناصر احمد صاحب ہم زلف ملک اشفاق احمد صاحب، افسر حفاظت یا نائب افسر حفاظت۔ان سات کے جنازے بھی ابھی نماز جمعہ اور عصر کے بعد پڑھے جائیں گے۔مولوی صاحب کے متعلق بالکل مختصر تعارف میں کروا دیتا ہوں کہ آپ کی پیدائش 17 / دسمبر 1917ء کی ہے یعنی مجھ سے عمر میں گیارہ سال بڑے تھے۔اور اللہ کے فضل کیساتھ بچپن ہی سے خدمت دین کے لئے وقف اور ہمہ تن خدمت دین خصوصاً علمی خدمت میں پیش پیش رہے۔آپ کے دادا حضرت حکیم چراغ دین صاحب اور والد حضرت منشی عبدالحق صاحب دونوں صحابی تھے اور منشی صاحب کی اولاد ساری خدا کے فضل سے دیندار۔بہت نیک ، خدمت کرنے والی اور ان کی اگلی نسلیں بھی آگے پھر اسی رنگ میں رنگین ہیں۔حضرت مصلح موعود کا دست شفقت خصوصیت سے حضرت مولوی صاحب پر ہوا کرتا تھا یہاں تک کہ بہت سے لوگ اس سے کچھ حسد نہیں تو رشک محسوس کرتے تھے مگر دیکھنے والوں کو حسد لگا کرتا تھا۔اس حد تک مولوی صاحب سے حضرت مصلح موعودؓ شفقت فرمایا کرتے تھے کہ دوسرے علماء کو بھی تکلیف