خطبات وقف جدید — Page 473
473 حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے انتیس نمبر اور جاپان کو پانچویں نمبر پر یہاں قربانی میں رکھا ہوا ہے لیکن دنیا میں وہ سوئٹزر لینڈ کے بعد نمبر دو ہے۔Per Capita Income کے لحاظ سے سوئٹزر لینڈ کے اگر سونمبر ہیں تو جاپان کے چھیاسی نمبر یونائیٹڈ نیشنز نے مقرر کئے ہیں یہاں Per Capita Income سے مراد تجارتی انکم مراد نہیں ہے بلکہ Wages یعنی ایک آدمی جب نوکری کرتا ہے تو اسکو جو تنخواہ ملتی ہے اس کے اعداد و شمار سے یونائیٹڈ نیشنز نے یہ موازنہ شائع کیا ہے۔سوئٹزرلینڈ میں سب ملازموں کی اگر اوسط نکالی جائے تو ملازم پیشہ کو اگر سو پاؤنڈ ملتے ہوں تو جاپان کے ملازم پیشہ کو چھیاسی ملتے ہیں۔پس اس پہلو سے سوئٹزرلینڈ کی جماعت کا نمبر ایک ہونا نسبت کے لحاظ سے یہ ایک بڑا مبارک قدم ہے اور انہوں نے دنیا کی اقتصادی توقعات کے مطابق جماعتی مالی قربانیوں میں بھی ویسا ہی نمونہ دکھایا ہے۔اللہ تعالیٰ مبارک فرمائے۔پاکستان کے موازنے میں صرف اتنا بتا نا کافی ہے لمبی فہرستیں پڑھنے کا وقت تو نہیں ہے کہ الحمدللہ ربوہ کوگزشتہ سالوں میں ہمیشہ اول آنے کی توفیق ملتی رہی ہے اس دفعہ بھی اول آیا ہے اور نمبر دو جہاں تک بالغان کی قربانی کا تعلق ہے دفتر بالغان الگ ہے دفتر اطفال الگ ہے۔ربوہ نمبر ایک ہے، کراچی نمبر دو ہے اور لاہور نمبر تین ہے۔جہاں تک اضلاع کا تعلق ہے اسلام آباد پھر سیالکوٹ پھر راولپنڈی پھر فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات ،شیخو پورہ سرگودہا ، عمرکوٹ ، کوئٹہ یہ دس اضلاع ہیں جن کو اسی ترتیب سے خدا تعالیٰ نے زیادہ خدمت کی توفیق بخشی ہے۔جہاں تک اطفال کا تعلق ہے وہاں بھی ربوہ نمبر ایک ہے اور کراچی کی بجائے لاہور نے دوسری پوزیشن سنبھال لی ہے چنانچہ ربوہ اول، لا ہور دوئم اور کراچی سوئم ہے۔جہاں تک اضلاع کا تعلق ہے گوجرانوالہ بہت پیچھے رہ جانے والی جماعتوں میں سے تھا جو آگے بڑھ کر اس میدان میں اول آگیا ہے۔اور راولپنڈی اس کے بعد، پھر سیالکوٹ پھر شیخو پورہ پھر فیصل آباد، اسلام آباد، اوکاڑہ۔سرگودہا، نارووال اور آخر پر میر پور خاص۔یہ ہے خلاصہ اس سال کی مالی قربانیوں کا اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ آئندہ بھی اسی ذوق و شوق کیسا تھ آپ وقف جدید کے میدان میں ہر پہلو سے پہلے سے بڑھ کر قربانیاں پیش کرتے رہیں گے۔جماعتوں کو میں پھر دوبارہ یاد دہانی کرواتا ہوں کہ نو مبائعین کو ضرور شامل کریں خواہ معمولی رقم لے کر بھی ان کو شامل کریں۔ایک دفعہ جس کو خدا کی راہ میں محبت سے کچھ پیش کرنے کی توفیق مل جائے پھر وہ چسکا پڑ جاتا ہے پھر وہ زندگی بھر اسکا چسکا اترتا نہیں ہے۔اسلئے بڑے بڑے بھاری بھاری چندے وصول نہ کریں شروع میں جتنی توفیق ہے اتنا وصول کریں تا کہ وہ جو محبت کا مضمون ہے وہ قائم رہے چٹی کا مضمون نہ آجائے۔ایک دفعہ آپ نے نئے آنے والوں پر توفیق سے بڑھ کر بوجھ ڈال دیا اور اصرار کیا کہ تم سولہواں