خطبات وقف جدید — Page 41
41 حضرت مصلح موعود جماعت کا سارا بجٹ تیس پینتیس ہزار کا تھا مگر اب صرف صدر انجمن احمدیہ کا ہی پچھلے سال تیرہ لاکھ کا بجٹ تھا اور اگر اس کے ساتھ تحریک جدید کو بھی شامل کر لیا جائے تو ہمارا بجٹ چھپیں ، چھبیس لاکھ تک پہنچ جاتا ہے اس کو دیکھ کر مخالف بھی متاثر ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ جماعت پہلے سے ترقی کر رہی ہے۔اور جب وقف جدید مضبوط ہو گیا جس کی وجہ سے لازماً چندے بھی بڑھیں گے اور آدمی بھی بڑھیں گے تو ممکن ہے اگلے سال تینوں انجمنوں کا بجٹ چالیس، پچاس لاکھ تک پہنچ جائے پس ان قربانیوں کی طرف جماعت کے ہر فرد کو توجہ کرنی چاہئے اور ہر آدمی کو یہ دعائیں کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی مد دجلدی آئے۔بیشک جہاں تک اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا سوال ہے ہمیں یقین ہے کہ اس کی نصرت ہمارے شامل حال ہوگی اور اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مقصد میں کامیاب فرمائے گا لیکن اگر اس مدد کے آنے میں کچھ دیر ہو جائے تو مومن کا قلب اسے برداشت نہیں کر سکتا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب مومن کہہ اٹھتے ہیں کہ مَتی نَصْرُ الله یعنی انتظار کرتے کرتے ہماری آنکھیں تھک گئیں اب اللہ کی مدد کب آئے گی۔فرماتا ہے الا اِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ (البقرة: آیت 215) اللہ کی نصرت آنے ہی والی ہے۔گھبراؤ نہیں تم گھبرا جاتے ہو اور سمجھتے ہو کہ نہ معلوم اس کی مدد کب آئے گی ، حالانکہ وہ تمہارے بالکل قریب پہنچ چکی ہے چنانچہ ان آیتوں کے نزول کے ایک دو سال بعد ہی مکہ فتح ہو گیا اور سارے عرب پر اسلام غالب آ گیا۔اب بھی ایسا ہی وقت ہے کہ ہر احمدی کے دل سے یہ آواز اٹھنی چاہئے کہ می نَصْرُ اللهِ اے خدا تیری مدد کب آئے گی۔ہم نے تیرے دین کی ترقی کے خواب اس وقت دیکھنے شروع کئے تھے جب یہ صدی شروع ہوئی تھی اور اب تو یہ صدی بھی ختم ہونے والی ہے مگر ابھی تک ہماری امیدیں بر نہیں آئیں اور کفر دنیا میں قائم ہے۔اے خدا تو اپنی مددبھیج تا کہ ہم اپنی زندگیوں میں ہی وہ دن دیکھ لیں کہ اسلام دنیا پر غالب آجائے اور عیسائی اور ہندو اور دوسرے تمام غیر مذاہب کے پیر ومغلوب ہو جائیں اور دنیا کے گوشہ گوشہ میں مسجدیں بن جائیں اور اللہ اکبر اللہ اکبر کی آوازوں سے سارا یورپ اور امریکہ گونج اٹھے اگر آپ لوگوں کے دلوں سے اس طرح آواز اٹھے تو آپ کو یقین رکھنا چاہئے کہ آپ کے دل میں ایمان کی چنگاری پیدا ہوگئی ہے لیکن اگر یہ آواز نہ اٹھے تو آپ سمجھ لیں کہ آپ لوگوں نے اپنے متعلق بلا وجہ نیک فنی کی۔آپ سمجھتے رہے کہ ہم مومن ہیں حالانکہ مومن نہیں تھے۔اسلام تو بہت بڑی چیز ہے رسولِ کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ مومن کی علامت یہ ہے کہ اگر اس کے کسی بھائی کو کوئی تکلیف پہنچے تو وہ اسے بھی ایسا ہی محسوس کرتا ہے جیسے وہ تکلیف خود اسے پہنچی ہے۔جب ایک مومن بھائی کی تکلیف کو بھی دوسرا شخص اپنی تکلیف سمجھتا ہے تو اگر اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺ پر اعتراضات کئے جاتے ہیں ، آپ پر غلاظت اچھالی صلى الله