خطبات وقف جدید — Page 454
454 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع پرانے زمانے میں 1953ء کی تحریک میں اس نے جماعت کے خلاف بڑا کر دار ادا کیا۔عبدالرحیم اشرف صاحب اس کے ایڈیٹر تھے اور ان کا پاکستان کے دینی طبقوں پر بڑا اثر تھا۔1953ء کی تحریک کی ناکامی کے بعد انہوں نے تجزیہ کیا ہے کہ کیا ہوا اور بے اختیار دل سے یہ آواز نکلی کہ ہم نے سب کچھ کر لیا مگر جماعت کا کچھ نہیں بگاڑ سکے اور جو وہ چندوں کی مثال دیتے ہیں جس سے غیر معمولی متاثر ہیں وہ ذرا سن لیں آپ کو اندازہ ہو کہ 1953ء میں جماعت کا حال کیا تھا مالی قربانی کا۔وہ کہتے ہیں کہ 53 ء کے عظیم تر ہنگامے کے با وجود قادیانی جماعت اس کوشش میں ہے کہ 56-57ء میں اس کا بجٹ پچیس لاکھ روپے تک پہنچ جائے۔“ ساری دنیا کی جماعت کا بجٹ پچیس لاکھ روپے تک پہنچ جائے اس کوشش میں ہیں۔کہاں وہ دن کہاں آج کا دن۔آج خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس سال وقف جدید کا جو وعدہ تھا وہ دو کروڑ اکتالیس لاکھ کا تھا مگر وصولی دو کروڑ تریسٹھ لاکھ ہوئی ہے۔تو کہاں وہ اس کے تو ہمات کہ یہ دیکھو کیسی باتیں کر رہے ہیں گویا ستاروں پہ کمند ڈالنے لگ گئے ہیں۔پچیس لاکھ کے بجٹ کی سوچ رہے ہیں اور اب وقف جدید ہی کا اکیلا دو کروڑ تریسٹھ لاکھ وصولی کا بجٹ ہے اور جہاں تک کل انجمن کے بجٹوں کا تعلق ہے اس کی برکت کا یہ حال دیکھ لیں۔57 ء تک تو وہ کہہ رہا تھا کہ یہ پچیس لاکھ کی باتیں کر رہے ہیں۔82-81ء میں یہ ایک کروڑ ستائیس لاکھ سٹرسٹھ ہزار چھ سوستاسی ہو چکا تھا اور 82-83ء میں ایک کروڑ پچپن لاکھ چھیانوے یعنی جس سال خدا تعالیٰ نے مجھے اس خدمت پر مامور فرمایا اس سال ایک کروڑ چھپیں لاکھ چھیانوے تھا اور 83-84ء میں میرے ہجرت کے سال سے ایک سال پہلے گل انجمن کا بجٹ دو کروڑ چھلا کھ چودہ ہزار تھا اور اب صرف وقف جدید کا بجٹ دو کروڑ تریسٹھ لاکھ ہو چکا ہے۔تو یہ پیسے حریص جماعت کی طرف سے آرہے ہیں جن کو مال کا فکر ہے اور مال کا حرص ہے؟ یہ تو اس جماعت کی طرف سے آ رہے ہیں جن کو مال کی کوڑی کی بھی پروا نہیں رہی۔اپنے مال پیش کرتے ہیں اور قبول ہوں تو خوش ہو کے لوٹتے ہیں۔نہ قبول ہوں تو روتے ہوئے واپس جاتے ہیں۔پس وقف جدید کے سلسلہ میں بھی خدا تعالیٰ نے وہ عظیم احسانات فرمائے ہیں کہ روح خدا کے حضور ایسے سجدے کرتی ہے کہ سجدے سے سر اٹھانے کو جی نہ چاہے سوائے اس کے کہ مجبوریاں دوسرے کاموں میں لے جائیں مگر ایک ایک شکر اللہ کا ایسا ہے کہ اس میں ساری روح ہمیشہ سجدہ ریز رہے تو اس کے نشے سے باہر نہیں آسکتی۔موازنے کے طور پر چند اور باتیں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔گذشتہ سال یعنی جو اس سال سے پہلا سال تھا وعدہ جات 2 کروڑ 26 لاکھ تھے اور وصولی دو کروڑ اڑتالیس لاکھ تریسٹھ ہزار ہوئی امسال جو گزر گیا ہے یعنی امسال سے مراد وہ سال جو ابھی گزرا ہے دو کروڑ اکتالیس کے وعدے تھے دو کروڑ تریسٹھ