خطبات وقف جدید — Page 39
39 حضرت مصلح موعود سمندر میں سے چونچ بھر کر پانی پیئے۔عیسائیوں کی طاقت کے مقابلہ میں نہ ہمارے پاس کوئی طاقت ہے اور نہ ان کے مبلغوں کے مقابلہ میں ہمارے مبلغوں کی تعداد کوئی حقیقت رکھتی ہے۔رومن کیتھولک پادریوں کی تعداد ہی اٹھاون ہزار ہے اور ہمارے مبلغ تین سو بھی نہیں۔ایک دفعہ وکالت تبشیر نے مجھے رپورٹ پیش کی تھی کہ مقامی جماعتوں کے مبلغ ملا کر ہمارے کل مبلغ 270 ہیں۔اب کجا 270 مبلغ اور کجا 58000 مبلغ۔اور ابھی یہ صرف رومن کیتھولک پادریوں کی تعداد ہے۔اگر پروٹسٹنٹ فرقہ کے پادریوں کو ملا لیا جائے تو ایک لاکھ سے بھی زیادہ ان کے مبلغوں کی تعداد بن جاتی ہے۔قرآن کریم نے ایک جگہ بتایا ہے کہ اگر مسلمانوں میں سچا ایمان پایا جائے تو ایک مومن دس کفار کا مقابلہ کر سکتا ہے (سورہ انفال ع:9) اس کے معنی یہ ہیں اگر ان کے دو ہزار سات سو مبلغ ہوں تب تو انسانی طاقت کے لحاظ سے ہماری فتح کا امکان ہے لیکن ہمارے 270 مبلغوں کے مقابلہ میں ان کے ایک لاکھ سے بھی زیادہ مبلغ ہیں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے ایک مبلغ کے مقابلے میں ان کے تین چار سو مبلغ کام کر رہے ہیں پس بظاہر دنیوی نقطہ نگاہ سے ان کا مقابلہ نہیں ہوسکتا گو صحابہ میں ہمیں عملاً اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ انھوں نے کئی کئی گنا لشکروں کا مقابلہ کیا اور دشمن پر فتح حاصل کی۔جب رومیوں سے جنگ ہوئی تو حضرت خالد بن ولیڈ نے صرف ساٹھ آدمیوں کا ایک چھوٹا سا گروہ منتخب کیا اور ان ساٹھ آدمیوں نے ساٹھ ہزار کے لشکر پر حملہ کر دیا۔اسی طرح صلى الله رسول کریم مہ جب رومیوں پر حملہ کرنے گئے تو آپ کے ساتھ صرف دس ہزار آدمی تھے اور رومی فوج کئی لاکھ تھی مگر خدا تعالیٰ نے ان پر ایسا رعب ڈالا کہ وہ ڈر کر پیچھے ہٹ گئے اور انھوں نے رسول کریم علیہ کا مقابلہ نہ کیا۔دراصل جرہم قبیلہ کی کہ پر رومی مسلمانوں پر حملہ کرنا چاہتے تھے یہ قبیلہ اصل میں عرب تھا مگر رومی اثر کے نیچے عیسائی ہو گیا تھا۔پہلے تو انھوں نے قیصر کو انگیخت کی اور اسے حملہ کے لئے اکسایا مگر جب رسول کریم ﷺ پہنچے تو وہ ڈر کر پیچھے ہٹ گئے۔اور جب وہ پیچھے ہٹے تو رومی فوج بھی ڈر گئی اور اس نے حملہ نہ کیا غرض صحابہ کے زمانہ میں دو دو ہزار گنا لشکر کا بھی مسلمانوں نے مقابلہ کیا ہے مگر یہ مقابلہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے کیونکہ ہماری جماعت بہت قلیل ہے اور ساری دنیا میں ہم نے اسلام پھیلانا ہے۔پس یہ کمی اس طرح پوری ہو سکتی ہے کہ ہماری جماعت کا ہر فرد دعاؤں میں لگا رہے اور ہر شخص اس بات کا عہد کرے کہ وہ دین کے لئے کسی قسم کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرے گا اور اسلام کی اشاعت کے لئے اپنی زندگی وقف کر دیگا۔میں نے اس غرض کے لئے جماعت میں وقف جدید کی تحریک کی ہے اور اس وقت تک جو اطلاع آئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تین سو چوالیس دوست اپنے آپ کو وقف کر چکے ہیں جن میں سے تیرہ صلى الله