خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 38 of 682

خطبات وقف جدید — Page 38

38 حضرت مصلح موعود کے اور کوئی دین نہیں رہا۔اگر عیسی کے پیرو عیسی کے پیچھے چلتے ہیں اور موسیٰ کے پیر و موسی کے پیچھے چلتے ہیں تو ہمارے لئے یہ حکم نہیں کہ ہم عیسائیت کی تبلیغ کریں یا یہودیت کو پھیلانے کی کوشش کریں بلکہ ہمارے لئے یہی حکم ہے کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کے پیچھے چلیں اور آپ کے لائے ہوئے دین کی اشاعت کے لئے اپنی جانیں تک لڑا دیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اسلام کی ویسی ہی نازک حالت ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ایک فارسی قصیدے میں فرمایا کہ:۔ہر طرف کفر است جوشاں ہمچو افواج یزید دین حق بیمار و بیکس ہمچو زین العابدین جیسے کربلا کے وقت ہوا تھا کہ یزید کی فوجیں غالب آ رہی تھیں اور امام حسین کا لڑکا زین العابدین بیمار پڑا ہوا تھا اور دین کی مدد کے لئے کچھ نہیں کر سکتا تھا انھوں نے چاہا بھی کہ اپنی بیماری میں اٹھ کر کر بلا کے میدان میں حضرت امام حسین کی مدد کریں مگر امام حسین نے کہا میرے بیٹے کو سنبھالو۔اس کو اٹھنے نہ دو۔چنانچہ ان کی پھوپھی زینب آئیں اور انھوں نے کہا کہ صبر سے کام لے تیرے باپ کا یہی حکم ہے کہ تجھے لٹا یا جائے اٹھنے نہ دیا جائے۔اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ہر طرف کفر است جوشاں ہمچو افواج یزید دین حق بیمار و بیکس ہمچو زین العابدین صلى الله یعنی جس طرح کربلا کے میدان میں رسول کریم علیہ کے خاندان کے صرف 70 آدمی تھے اور باقی سینکڑوں ہزاروں سپاہیوں کی رجمنٹیں ایک مشہور جرنیل کے ماتحت یزید کی طرف سے ان کو گھیرے ہوئے تھیں اسی طرح آجکل اسلام کی حالت ہے کہ چاروں طرف سے یزیدی فوجوں کی طرح لوگ اس پر چڑھے آرہے ہیں اور اسلام کی حالت ایسی ہی ہے جیسے زین العابدین بیماری میں تڑپ رہے تھے اور اپنے صلى الله باپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے تھے ہمارے روحانی باپ چونکہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں اس لئے اس کے معنی یہ صل الله عل وسام ہیں کہ مسلمانوں کے دلوں میں اگر ایمان ہوتا ہے تو وہ تڑپتے ہیں کہ اپنے حقیقی روحانی باپ محمد رسول اللہ ﷺ کی مددکریں لیکن وہ بیمار و بیکس ہیں یعنی ان میں طاقت نہیں کہ مقابلہ کر سکیں نہ پیسہ ان کے پاس ہے، نہ پریس ان کے پاس ہے نہ فوجیں ان کے پاس ہیں ، نہ حکومتیں ان کے پاس ہیں۔عیسائی، محمد رسول اللہ ے پر گندا اچھالتے ہیں مگر ان کے پاس اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ جواب دے سکیں۔اب ہماری جماعت کو خدا تعالیٰ نے توفیق دی ہے کہ اس کے افراد یورپ اور امریکہ اور افریقہ اور انڈو نیشیا وغیرہ میں اسلام کی اشاعت کر رہے ہیں۔مگر کام کی وسعت کے مقابلے میں ہماری جدو جہد ایسی ہی ہے جیسے کوئی چڑیا