خطبات وقف جدید — Page 437
437 حضرت خلیفة المسیح الرابع اتنا وقت لے لیا کریں گے جاپان کو چاہئے کہ اپنے لئے جاپانی پروگرام بنائے ، کوریا کو چاہئے کہ کورین زبان میں پروگرام بنائیں غرضیکہ اب دنیا کی جماعتوں کے لئے ایک صلائے عام ہے، کھلی دعوت ہے آئیے شوق سے آگے بڑھیں، بھر پور حصہ لیں ، اگر پاکستان چاہتا ہے کہ سندھی پروگرام بھی چلیں اور بلوچی پروگرام بھی چلیں اور سرائیکی پروگرام بھی چلیں اور پنجابی پروگرام بھی چلیں ، اردو پروگرام بھی چلیں تو پاکستان کی جماعتوں کو ایسے پروگرام بنا کر ہمیں بھجوانے چاہئیں۔جہاں تک مرکزی پروگراموں کا تعلق ہے اس سلسلے میں سب سے اہم اور سب سے عظیم الشان پروگرام یہ بنایا گیا ہے کہ مسلسل خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہترین قرآت کے ساتھ روزانہ قرآن کریم کی تلاوت ہوا کرے گی اور ہر آیت کے بعد مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ پیش کیا جایا کرے گا اور امید ہے انشاء اللہ ایک دو سال کے اندر ہم دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں روزانہ کچھ نہ کچھ ترجمہ پیش کرسکیں گے۔اب آپ دیکھیں کہ رشین زبان میں جو ترجمہ کیا گیا ہے کتنے ہیں جن تک وہ پہنچ سکتا ہے، کتنے ہیں جو عربی زبان میں اصل متن کو پڑھ بھی سکتے ہیں۔لکھوکھا میں سے ایک بھی نہیں لیکن اچھی تلاوت سے سننا تو اور بھی دل پر اثر کرتا ہے اور اگر اچھی آواز میں پڑھ کر وہ ترجمہ سنایا جائے تو دلوں پر حیرت انگیز اثر چھوڑتا ہے۔اس لحاظ سے قرآن کریم کو مختلف زبانوں میں متعارف کرانے کے لئے ہمارے ترجمے کافی نہیں تھے ان کو کتابی صورت میں شائع کر کے بیچنا یا دلچسپی لینے والوں تک پہنچانا بہت بڑا کام تھا اور عام طور پر ہر زبان کا ایک بھاری طبقہ ایسا ہے کہ جو خواہش کے باوجود ہر چیز کو حاصل نہیں کر سکتا نہ ان کو ہمارا پتہ نہ ہی ہمیں ان کا پتہ۔جن کو خواہش ہے ان کے پاس پیسے نہیں اور پھر بڑی تعداد میں ایسی قو میں بھی ہیں جن کی زبان میں ترجمے تو ہو چکے ہیں مگر ان کو پڑھنا ہی نہیں آتا ، مثلاً یوروبا ہے جو نا یجیریا کے شمال میں بولی جاتی ہے اس میں اگر ترجمہ ہے تو اکثر لوگ پڑھ ہی نہیں سکتے۔اسی طرح افریقہ کی دوسری اور بہت سی زبانیں ہیں جن کو پڑھنے والے موجود نہیں ہیں اور ہم ترجمہ کر چکے ہیں۔اب ہم جماعت کے ذریعے غیروں کو بھی انکی اپنی زبان میں قرآن کریم کی تعلیم روزانہ دیا کریں گے اور اچھی تلاوت کے ساتھ جب قاری پڑھے گا تو لوگ اس کی نقل بھی اتار سکتے ہیں۔وہ تلاوتیں پیش کی جائیں گی جن میں قاری ٹھہر ٹھہر کر پڑھے گا آرام سے سہولت کے ساتھ کسی جلدی کے بغیر۔پھر اس کا ترجمہ سمجھا سمجھا کر پڑھا جائے گا تو انشاء اللہ تعالیٰ قرآن کے مطالب اور معانی تمام دنیا کے لئے عام کر دیئے جائیں گے اور حضرت امام مہدی کے آنے کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ وہ خزانے لٹائے گا، غیر احمدی علماء تو دنیا کے خزانوں کی انتظار لے کے بیٹھے ہیں کہ امام مہدی آئے تو دنیا کے خزانے لٹائے ان کو کیا علم کے دنیا کا سب سے بڑا خزانہ تو قرآن کریم کا خزانہ ہے جو آسمان سے اترا ہے ایسا