خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 37 of 682

خطبات وقف جدید — Page 37

37 حضرت مصلح موعود أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَهُدَاهُمُ اقْتَدِهُ ط صل الله (سورۃ انعام:91) یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے ہدایت دی پس اے محمد رسول اللہ ﷺ جس طرز پر یہ لوگ چلے ہیں اس طرز پر تجھے اور تیرے ساتھیوں کو بھی چلنا چاہئے۔اب یہ صاف بات ہے کہ محمد رسول اللہ لہ سے پہلے جو نبی گذرے ہیں یا جن کا یہاں ذکر آتا ہے جن میں حضرت ابراہیم کا نام بھی آیا ہے ، حضرت اسحاق" کا نام بھی آیا ہے ، حضرت یعقوب کا نام بھی آیا ہے، حضرت داؤڈ کا بھی نام آیا ہے ، حضرت سلیمان کا بھی نام آیا ہے ، حضرت ایوب کا بھی نام آیا ہے ، حضرت یوسف کا بھی نام آیا ہے، حضرت موسیٰ“ کا بھی نام آیا ہے ، حضرت ہارون کا نام بھی آیا ہے اسی طرح زکریا ، ہیجی ، عیسی ، الیاس ، اسمعیل ، یسعیاہ ، یونس اور لوط کا بھی نام آیا ہے۔ان تمام کی زندگیوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی ساری زندگی خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت میں لگادی تھی۔اور پھر محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی یہی حکم دیا گیا کہ فبهداهُمُ اقْتَدِه تو بھی ان نبیوں کے طریق پر چل۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ شروع دعویٰ نبوت سے لے کر 23 سال تک محمد رسول اللہ ﷺ نے کوئی ذاتی کام نہیں کیا صرف دین کی خدمت کرتے رہے اور اسلام کے پھیلانے میں دن رات لگے رہے اور اسی حالت میں فوت ہو گئے رسول کریم کے دل میں دین کی خدمت اور اس کی اشاعت کا اس قدر شوق تھا کہ مرض الموت میں آپ نے ایک دن فرمایا کہ میرے اور مسجد کے درمیان میں جو پردہ حائل ہے اسے ہٹا دو میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کا کیا حال ہے۔جب پردہ ہٹایا گیا اور صحابہ جو نماز کے لئے جمع تھے انھوں نے محمد رسول اللہ کو دیکھا تو وہ شوق کے مارے دیوانے ہو گئے اور انھوں نے بے تحاشہ اپنی خوشی کا اظہار کرنا شروع کر دیا مگر رسول کریم ﷺ کی طبیعت چونکہ زیادہ نا ساز تھی اس لئے آپ نے فرمایا اب پر دے گرا دو اور باہر کہلا بھیجا کہ میرا دل تو چاہتا تھا کہ آؤں مگر میں کمزوری کی وجہ سے نہیں آ سکتا۔میری جگہ ابو بکر نماز پڑھا علوسام دیں۔صلى الله الله غرض یہ ایک قرآنی ہدایت ہے جس کو ہمیشہ مدنظر رکھنا ضروری ہے اور ہمارا بھی فرض ہے کہ دنیا صل الله میں جتنے انبیاء گذرے ہیں جن میں خصوصیت سے محمد رسول اللہ ﷺہ شامل ہیں ان کے نمونہ کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے ہم اسلام کی خدمت بجالائیں کیونکہ اس وقت سوائے اسلام کے اور کوئی سچا دین نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک دوسری جگہ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ (آل عمران:20) یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس وقت صرف اسلام ہی حقیقی دین ہے پس قرآن کے نزول کے بعد اب سوائے اسلام