خطبات وقف جدید — Page 426
426 حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کوئی دعا ہوتی تھی کسی خط میں کوئی دعا ہوتی تھی۔اور یہ پڑھ کر مجھے خیال آیا کہ جماعت کو بھی اپنے ان جذبات میں شریک کروں۔حضرت شیخ محمد احمد صاحب کی عمر غیر معمولی حالات میں بہت سخت بیماریوں کا شکار رہنے کے باوجود خدا کے فضل سے لمبی سے بھی ہوتی چلی گئی ہے اور دعا کا ایک چھوٹا سا فقرہ یہ تھا کہ 66 ” خدا تعالی با عمر کرے “ تو با عمر تو ہو گئے اب سوسال پورے ہونے میں چارسال رہتے ہیں۔اللہ کرے کہ یہ اگلی صدی بھی دیکھیں عمر کی اگلی صدی بھی اور دوسری بھی ، یہ تو ہماری ایک خواہش اور تمنا ہے لیکن یہ دعا ضرور ساتھ کرنی چاہئے کہ صحت و عافیت کی شرط کے ساتھ ، باہوش با مرا درہتے ہوئے۔ایسی حالت میں لمبی زندگی کی دعا کرنا مناسب نہیں کہ انسان صاحب فراش ہو چکا ہو دوسروں پر بوجھ بن چکا ہو اور حضرت شیخ صاحب کے متعلق تو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ بڑے خود دار انسان ہیں اور ادنی سا بوجھ بھی کسی پر ڈالنا پسند نہیں کرتے اس لئے ہماری تمنا اور خواہش ہے البتہ اللہ کے ہاں جو بھی منظور ہو اسی پر ہم راضی ہیں۔پس ان کو جو صحابی کہا گیا تو اس لئے کہ خیال تھا کہ اس زمانے میں ضرور کسی وقت گئے ہوں گے لیکن یہ معلوم کر کے تعجب ہوا ہے کہ کبھی بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں خود حاضر ہونے کا موقع نہیں ملا اور اس زمانے میں جو بعض عشاق صحابہ تھے ان کی عشق کی عجلت نے بھی ایسا کیا ہے۔بعض دفعہ انسان ایک خیال میں ایسا مگن ہو جاتا ہے کہ اپنے گردو پیش، اپنے ماحول اپنے بچوں تک کی فکر نہیں رہتی تو وہ اس شدت کے جذبے سے قادیان کی طرف کھینچے جایا کرتے تھے کہ معلوم ہوتا ہے کہ اس بات کی ہوش نہیں تھی کہ میں اپنے بچے کو بھی لے جاؤں اور اس کو بھی صحابی بنالوں مگر میں نے جو صحابی کہا ہے تو صرف عمر کی وجہ سے نہیں۔ان کی ادائیں بھی صحابہ والی ہیں۔پس میری غلطی تو اپنی جگہ لیکن ان سے بھی تو پوچھئے کہ وہ کیوں اتنے پیارے ہوئے۔جنہوں نے اپنی ساری زندگی صحابہ کی طرح صرف کی ہواُن کو اگر غلطی سے صحابہ میں شمار کر لیا جائے تو انسانی نقطہ نگاہ سے تو غلطی ہے مگر خدا تو بغیر غلطی کے شامل کر سکتا ہے۔پس آخری دعا جو میں کرتا ہوں اور آپ سے بھی اس کی گزارش کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ حضرت شیخ محمد احمد صاحب کے لئے یہ دعا کریں کہ میرے منہ سے جو غلطی سے نکلا تھا خدا کی تقدیر میں واقعہ لکھا جائے اور اللہ کے رجسٹر میں ان کا شمار صحابہ میں ہو۔آب مختصر وقف جدید کے اطفال کے دفتر کا ذکر کرتا ہوں۔1966ء میں دفتر اطفال کا اجرا ہوا تھا پہلے سال 3 ہزار 365 روپے وصولی تھی اور 1991ء میں خدا کے فضل سے یہ وصولی بڑھ کر 6 لاکھ 22