خطبات وقف جدید — Page 425
425 حضرت خلیفہ امسیح الرابع اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم جنوری 1993 ء بیت الفضل لندن وو گزشتہ خطبہ میں وقف جدید کا جو اعلان ہوا تھا اس میں دو باتیں تو غلطی سے ایسی بیان ہوئیں جن کی تصحیح ضروری ہے اور ایک پہلو وقف جدید اطفال نو کا ذکر رہ گیا تھا وہ میں اب کروں گا۔سب سے پہلے تو ایک عددی غلطی ہے یعنی جب میں نے پاکستان ، ہندوستان اور بنگلہ دیش کی جماعتوں کے علاوہ باقی دنیا میں وقف جدید کے وعدوں اور وصولی کے لحاظ سے 1991ء اور 1992ء کا موازنہ کیا تو غلطی سے یہ کہہ دیا کہ 66 فیصد اضافہ ہوا ہے حالانکہ جو فقرہ نیچے لکھا ہوا تھا وہ 66 ہزار کا تھا اور باقی جگہ فیصد چل رہی تھی اس لئے میرے منہ سے بھی 66 ہزار کی بجائے 66 فیصد نکل گیا یہ درستی ہو جانی چاہئے۔34۔64 فیصد اضافہ ہوا تھا۔دوسرے میں نے حضرت شیخ محمد احمد صاحب کا ذکر کرتے ہوئے ان کو صحابی بیان کر دیا تھا۔آپکی پیدائش در اصل 14 نومبر 1896 ء کی ہے جبکہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب جو ان کے بزرگ صحابی والد تھے وہ اس سے پہلے احمدی ہو چکے تھے اور یہ پیدائشی احمدی تھے تو مجھے چونکہ یاد تھا کہ یہ پچھلی صدی میں پیدا ہوئے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کا ایک بڑا حصہ انھوں نے پایا ہے اس لئے میں نے صحابی کہہ دیا۔اس سلسلہ میں ایک خط کا اقتباس میرے سامنے ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شیخ محمد احمد صاحب کی پیدائش پر ان کے والد کے نام مبارکباد کا خط لکھا۔وہ خط یہ ہے: د محبی اخویم منشی ظفر احمد صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته لڑکا نوزاد مبارک ہو اس کا نام محمد احمد رکھ دیں۔خدا تعالی با عمر کرے“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سارے کام اپنے ہاتھ سے کرتے تھے تو اس زمانے میں کوئی سیکرٹری تو ہوا نہیں کرتے تھے اور کتا بیں بھی لکھنا، بڑے بڑے مضامین لکھنا۔پھر بے شمار اور دوسرے کام تھے کہ یقین نہیں آتا کہ چوبیس گھنٹے کے اندر اتنے کام ممکن ہیں۔پھر اپنے صحابہ کی دلداری کے لئے اپنے ہاتھ سے آپ انھیں خط بھی لکھا کرتے تھے مگر تحریر مختصر اور بہت سے مضامین کو چند الفاظ میں سمیٹتے ہوئے۔اس خط میں یہ "با عمر کرنے والی جو بات ہے یہ ہر خط میں آپ نہیں لکھا کرتے تھے کسی خط میں