خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 410 of 682

خطبات وقف جدید — Page 410

410 حضرت خلیفہ امسیح الرابع عظیم الشان ثبوت ہے کہ ساری دنیا ز ور مار لے، گالیاں دے یا کوششیں کرے اور منصوبے بنائے تو بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کی یہ نمایاں اور عظیم الشان اور امتیازی خوبی ان سے چھین نہیں سکتی۔اس پیغام کو سو سال ہو چکے ہیں سو سال میں کتنی ہی نسلیں ایک دوسرے کے بعد آتی ہیں اور تھک ہار کر بیٹھ رہا کرتی ہیں اور مالی نظام تو خصوصیت کے ساتھ بہت ہی زیادہ ابتلاء میں ڈالے جاتے ہیں۔ابتلاء ان معنوں میں کہ مالی لحاظ سے 100 سال کے اندر کام کرنے والوں کی دیانتیں بدل جاتی ہیں ان کے اخلاص بدل جاتے ہیں۔قربانی کرنے والوں کا معیار بدل جایا کرتا ہے اور اس پہلو سے وہ مالی نظام جو خالصہ طوعی تحریک پر مبنی ہو اس کے لئے ایک سو سال تک کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتے رہنا اس جماعت کے بانی کی صداقت کی ایک بہت ہی عظیم الشان دلیل ہے۔خاص طور پر جبکہ دنیا کے رجحان اس کے برعکس چل رہے ہوں۔جبکہ مالی قربانی کا تصور عملاً مٹتا چلا جارہا ہو۔جبکہ حکومتوں کی دولت پر کام چلائے جاتے ہوں اور انفرادی کوشش اور محنت اور اخلاص کے ساتھ اعلیٰ مقاصد کے لئے روپے پیش کرنے کا تصور اگر پہلے بعض قوموں میں تھا بھی تو کم ہوتا چلا جائے۔دنیا میں جتنی بھی تو میں نیکی کے نام پر خرچ کرتی ہیں ان کے متعلق بلاخوف اختلاف یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر آنے والے سال میں لوگوں کے جذبے میں کمی ہوتی چلی جاتی ہے اور رفتہ رفتہ نیک کاموں پر از خود خرچ کرنے کا رجحان کم ہوتا چلا جارہا ہے۔جماعت احمدیہ کا گراف اس سے بالکل مختلف ہے اور حیرت انگیز وفا کے ساتھ اپنے اس اسلوب کو قائم رکھے ہوئے ہے کہ ہر آنے والا سال جماعت کی مالی قربانی کی روح کو کم کرنے کی بجائے بڑھا رہا ہے۔یہ اعجاز خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ایک بچے فرستادہ کے سوا کوئی دنیا میں دکھا نہیں سکتا۔ساری دنیا کی طاقتوں کو میں کہتا ہوں کہ مل کر زور لگا کر دیکھ لیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جیسی کوئی مالی قربانی کرنے والی جماعت کہیں ہو تو لا کر دکھا ئیں۔دنیا کے سامنے وہ چہرے تو پیش کریں وہ کون لوگ ہیں جو اس طرح اخلاص اور وفا کے ساتھ اور بڑھتی ہوئی قربانی کی روح کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور اپنے اموال پیش کرتے چلے جاتے ہیں۔یہ چونکہ اموال کی باتیں ہیں اس لئے میں اموال کی بات کر رہا ہوں ورنہ خدا کے فضل سے جماعت احمد یہ نیکیوں کے ہر میدان میں آگے بڑھ رہی ہے۔کسی میدان میں بھی پیچھے نہیں رہ رہی۔وقتی طور پر جہاں بعض دفعہ اخلاقی کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں جب بھی توجہ دلائی جائے تو فوری طور پر اس کا رد عمل پیدا ہوتا ہے اور غلط راہوں پر جانے والے لوٹ آتے ہیں اور پھر صحیح راستے پر قافلے کے ساتھ مل کر چلنے لگتے ہیں۔پاکستان میں بھی بعض خرابیاں مثلاً ویڈیو کیسٹ کے غلط استعمال سے متعلق شروع ہوئیں۔میں