خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 384 of 682

خطبات وقف جدید — Page 384

384 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع سکتا ہے یا درکھیں کہ سر کا اونچا ہونا لازماً تکبر کی علامت نہیں ہے۔بعض دفعہ نیک مقاصد کیلئے بھی سر بلند کئے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے احسان کے تابع جہاں سر جھکتے ہیں وہاں سر بلند بھی ہوا کرتے ہیں۔پس ان معنوں میں ہندوستان کی جماعتوں کا سر بہت بلند تھا لیکن رفتہ رفتہ تقسیم کے بعد جو کمزوریاں پیدا ہونی شروع ہوئیں ان میں ایک مصیبت یہ آپڑی کہ دوسروں پر انحصار کا رجحان پیدا ہو گیا اور ہندوستان یہ بھول گیا کہ وہ تو ایک فیض رساں ملک تھا اور فیض رساں ملک کے طور پر بنایا گیا تھا۔اس مقصد کیلئے خدا نے اسے چنا تھا کہ اس کا فیض ساری دنیا میں پھیلے۔پس اس نقطہ نگاہ سے ہندوستان کی جماعتوں کو اپنے حالات کا از سر نو جائزہ لینا چاہئے۔میں یہ نہیں کہتا کہ فلاں جماعت کے لوگ مالی قربانی میں پیچھے ہیں اور فلاں کے آگے ہیں لیکن یہ میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی ضروریات کے لئے استطاعت ضرور بخشی ہے۔آپ میں جتنے مخلصین کام کیلئے آگے آسکتے ہیں ان کا آپ کی تعداد سے ایک تناسب ہے اور ہر قوم میں یہ تناسب موجود ہوتا ہے پس جتنے مخلصین آپ پیدا کر سکتے ہیں ان مخلصین کی ضروریات کیلئے بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو ضرور توفیق بخشی ہے۔پس اگر وہ ضروریات پوری نہ ہوں اور باہر سے مدد کی ضرورت پیش آئے تو یہ تکلیف دہ صورت اُبھرتی ہے کہ ہندوستان کی جماعتیں اپنے فرائض کو پورا ادا نہیں کر رہیں۔پس میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے حالات کا جائزہ لیں۔آپ میں سے وہ خوش نصیب جن کو خدا تعالیٰ نے کثرت سے دولت عطاء فرمائی ہے اور ایسے ضرور ہیں۔وہ یہ جائزہ لیں کہ کیا وہ اس نسبت سے جس نسبت سے اللہ نے ان پر فضل فرمایا ہے، خدا کے حضور مالی قربانی میں لبیک کہتے ہیں کہ نہیں۔یہ خیال کہ جماعت کے عہدیداران کو کیا پتہ کہ ہمارے پاس کیا ہے، ہمیں کتنا ملتا ہے ، یہ ایک بے تعلق اور بے معنی خیال ہے۔جماعت کے عہدیداران کو خوش کرنے کیلئے تو آپ نے دینا ہی نہیں ہے۔جس کے حضور پیش کرتے ہیں اسے سب کچھ پتہ ہے کیونکہ دینے والا ہاتھ وہ ہے۔عطا کرنے والے کو کیسے آپ دھوکہ دے سکتے ہیں۔جس نے خود آپ کو کچھ دیا ہو آپ کیسے یہ سوچ سکتے ہیں کہ اسے آپ کے حالات کا علم نہیں ہے۔پس ان عذر کے قصوں کو بھلا دیجئے چھوڑ دیں ان باتوں کو کہ آپ کے اوپر کتنی ذمہ داری ہے اور مالی لحاظ سے لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ اچھے ہیں لیکن عملاً یہ حال نہیں ہے۔اس قسم کی باتیں عموماً کم چندہ دینے والے کیا کرتے ہیں۔ان کو بھلادیجئے اور یہ بات دیکھئے کہ جس خدا نے آپ کو عطا کیا ہے اگر اس کی محبت اور پیار کے اظہار کیلئے آپ اس کے حضور کچھ پیش کرتے ہیں تو وہ اسے رکھ نہیں لے گا وہ اسے واپس لوٹائے گا اور وہ چند کر کے واپس لوٹائے گا۔اور دس گنا زیادہ