خطبات وقف جدید — Page 383
383 حضرت خلیفة المسیح الرابع میں یورپ کے ممالک میں سے جرمنی ہے اور UNITED KINGDOM ہے اور دوسرے مغرب کے ممالک میں سے کینیڈا ہے اور امریکہ ہے اسی طرح انڈونیشیا اور دیگر مشرقی ممالک نے بھی بڑی ہی خوشدلی کے ساتھ اور بشاشت کے ساتھ لبیک کہا۔اور اس کے نتیجہ میں ہماری بہت سی مالی وقتیں دور ہوگئیں۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ دیگر ممالک تو مسلسل قربانی میں آگے بڑھ رہے ہیں اور آغاز میں جتنے انہوں نے وعدے کیے تھے اور جتنی ادائیگی کی تھی اس کے مقابل پر اب انکے وعدے اور ادا ئیگی کئی گنا بڑھ چکی ہے۔لیکن ہندوستان کی وقف جدید کا وہی حال ہے جس رفتار سے پہلے قدم اٹھا رہی تھی بعینہ اسی رفتار سے اب قدم اٹھا رہی ہے۔شاید اس میں کچھ قصور بیرونی قربانی کرنے والوں کا ان معنوں میں ہو کہ یہاں کے کارکنوں نے سمجھ لیا کہ خدا کے فضل سے پیسے تو باہر سے آہی جانے ہیں ،ضرورتیں تو پوری ہو ہی جانی ہیں ہمیں کیا ضرورت ہے کہ خواہ مخواہ کوشش کریں اور مصیبت میں مبتلا ہوں اور چٹھیاں لکھیں اور جماعتوں کو احساس دلائیں کہ تم نے اپنے پاؤں پر کھڑا ہوتا ہے۔بعض دفعہ بیرونی مدد اس قسم کی کمزوری بھی پیدا کر دیا ا کرتی ہے۔تو ایک بات تو میں آج آپ سے یہ کہنی چاہتا ہوں کہ دین کی خاطر قربانی کرنا اللہ تعالیٰ کے فضل سے کسی پر ذاتی احسان نہیں ہے۔یہ نہیں میں کہہ رہا کہ واقعہ آپ پر وہ قومیں احسان کر رہی ہیں۔یہ لفظ تو محاورے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔عملاً جو بھی چندہ دیتا ہے اللہ دیتا ہے۔اللہ کی رضا کی خاطر دیتا ہے اس لئے احسان کے مضمون کو کچھ دیر بھول جائیے۔لیکن انسانی غیرت اور حمیت کے مضمون کو ضرور یا درکھیں۔ایک مومن حتی المقدور ضرور یہ کوشش کرتا ہے کہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو۔ایک مومن حتی المقدور ضرور یہ کوشش کرتا ہے کہ اپنی اور اپنی علاقائی ضرورتوں کو وہ خود پورا کر سکے اور ہر معنی میں یعنی لطیف تر معنی بھی فیض رساں ہو فیض قبول کرنے والا نہ ہو۔پس ذاتی طور تو ہندوستان کو جہاں بیرونی دنیا سے کوئی بھی زیرا احسان نہیں کرتا جب وہ خلیفہ وقت کی تحریک پر وقف جدید کی مد میں قربانی کرتا ہے۔لیکن ہندوستان میں یا احساس پیدا ہونا ضروری ہے کہ ہم وہ ملک ہیں جہاں احمدیت کا سوتا پھوٹا ہے۔جہاں آسمان سے احمدیت کا نور نازل ہوا ہے۔ایک لمبے عرصہ تک ہمیں یہ سعادت ملی کہ ہمارا فیض ساری دنیا کو پہنچتا رہا۔مشرق کو بھی پہنچا، مغرب کو بھی پہنچا، کالوں کو بھی پہنچا، گوروں کو بھی پہنچا۔ایک ہندوستان ہی تھا جو افریقہ کی ضرورتیں بھی پوری کر رہا تھا، امریکہ کی ضرورتیں بھی پوری کر رہا تھا، یورپ کے ممالک کی ضرورتیں بھی پوری کر رہا تھا اور مشرق بعید کے ممالک کی ضرورتیں بھی پوری کر رہا تھا۔کبھی کسی ہندوستانی احمدی کے دل میں یہ خیال نہیں آیا کہ وہ دوسروں پر احسان کرتا ہے۔اسکے لئے یہ سعادت تھی اور اس سعادت کے نتیجہ میں، تکبر کے نتیجہ میں نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے احسان کو یا در کھتے ہوئے اس کا سر اونچا ہوتا تھا سر کا اُونچا ہونا بھی مختلف وجوہ سے ہو