خطبات وقف جدید — Page 379
379 حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ہوں گے تو انہوں نے خوشی سے اثبات میں جواب دیا بلکہ بہت ہی پر خلوص جذبے کے ساتھ لیک ہی۔اسی طرح ایسے انگریزی دان بھی میسر ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ قادیان میں آ کر خدمت کے لئے تیار ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے اور زبانوں میں بھی زبان سکھانے والے اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں۔اس پہلو سے یہاں کے جامعہ کا معیار خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت بلند کیا جاسکتا ہے۔اہل زبان اپنی اپنی زبان یہاں کے طالب علموں کو سکھائیں اور قابل علماء جو یہاں میسر نہ ہوں تو باہر سے منگوائے جائیں۔وہ اپنے اپنے مضمون کو اعلی پیمانہ پر ذہن نشین اور دلنشین کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہاں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جامعہ کا معیار بہت بلند ہو سکتا ہے اور جو روکیں اس وقت پاکستان میں ہمیں زچ کر رہی ہیں اور دل کو تنگ کرتی ہیں میں امید رکھتا ہوں کہ وہ روکیں یہاں نہیں ہوں گی۔پس اگر یہ ہو تو میرے ذہن میں یہ نقشہ ہے کہ ایک وسیع جامعہ بنایا جائے جس کا کام صرف اعلیٰ درجہ کے مولوی فاضل پیدا کرنا یا مولوی فاضل کے معیار سے بلند مبلغ پیدا کرنا نہ ہو بلکہ وقف جدید کے لئے بھی وہی کام کرے گویا شروع کے دو یا تین سال جتنی دیر میں ہم سمجھتے ہیں کہ وقف جدید کے مبلغ اس حد تک تیار ہو سکتے ہیں کہ وہ حو صلے اور اعتماد کے ساتھ میدان عمل میں جا کر خدمت بجالا سکیں اسوقت تک ان سب کی کلاسیں اکٹھی بھی ہوسکتی ہیں۔بعد میں جو مزید ماہر علماء تیار کرنے ہوں وہ تین یا چار سال کے لئے مزید اس جامعہ میں ٹھہر کر اپنی آخری ڈگری حاصل کر سکتے ہیں۔پھر ان میں سے جو خلصین فوری طور پر اپنے آپ کو میدان عمل کیلئے پیش کریں اسی جامعہ میں کچھ نہ کچھ ابتدائی تربیت کیلئے ان کو چند مہینے روکنا ہوگا اور خدا کے فضل سے اسی جامعہ میں اس کا بھی بہت عمدہ انتظام ہو سکتا ہے۔تو تین قسم کے معلمین اور مبلغین یہ جامعہ تیار کریگا۔ایک وہ مخلصین جو فوری طور پر اپنے آپ کو میدان عمل میں پیش کرنے کے لئے حاضر ہوں آسمیں نہ کوئی عمر کی شرط ہوگی نہ کوئی تعلیم کی شرط ہوگی ،تقویٰ اور خلوص اور قربانی کا مادہ، یہ دیکھے جائینگے۔ابتدائی طور پر ان کو نظام جماعت سمجھانے کیلئے تبلیغ کے میدان میں حکمتوں کے معاملات سمجھانے کیلئے اور عمومی طور پر ان علاقوں کے متعلق کچھ معلومات بہم پہنچانے کے لئے جن میں ان کو بھجوانا مقصود ہو۔پھر اسلام کی کم از کم وہ تعلیم عمدگی کے ساتھ ان کے ذہن نشین اور دلنشین کرنے کی خاطر جس تعلیم کے بغیر کوئی مسلمان روز مرہ کی زندگی میں اپنے مسلمان ہونے کا حق ادا نہیں کر سکتا۔وہ بھی ان کو لاز ما سکھانی ہوگی مثلا نماز ہے، اگر کوئی بہت ہی مخلص آدمی اپنے آپ کو پیش کرے کہ میں حاضر ہوں۔مجھے میدان عمل میں جھونک دیا جائے لیکن نماز صحیح نہ جانتا ہو، اس کا تلفظ درست نہ ہو، اس کا ترجمہ اسے نہ آتا ہوں، نماز کے متعلق اس کے اردگر دجو مسائل گھومتے ہیں ان سے نا آشنا ہو۔وضو کے مسائل کا نہ پتہ ہو۔دیگر آداب صلوۃ سے نا واقف ہو تو یہ کہنا