خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 369 of 682

خطبات وقف جدید — Page 369

369 حضرت خلیفہ مسیح الرابع رہتی ہے اور دیہات کو گہری نظر سے نہیں دیکھتے اور دیہات میں ہی پہلے علمی لحاظ سے کمی محسوس ہوتی ہے اور دیہات میں ہی جہالت کے نتیجے میں چند علماء پر اعتماد پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور سمجھا یہ جاتا ہے کہ جو کچھ یہ ہیں وہی ٹھیک ہے۔اور قرآن فرماتا ہے کہ اس دور کے علماء جبکہ عمو مدین میں دلچسپی کم ہو جائے خود بھی گدھوں کی طرح ہو جایا کرتے ہیں۔پس یہ وہ المیہ تھا جس سے بچنے کے لئے وقف جدید کا آغاز ہوا چنانچہ جب ہم نے دیہات کے جائزے لینے کے بعد مریضوں پر نظر ڈالی ، انکی تعداد دیکھی تو اس خیال سے وحشت ہوتی تھی کہ اتنی جائز ضرورتیں اس کثرت کے ساتھ ہیں اور ہم ان کو پورا نہیں کر سکتے ویسی ہی مثال ہے کہ: کون ہے جو نہیں ہے حاجتمند کس کی حاجت روا کرے کوئی سینکڑوں ہزاروں مطالبے تھے ، جس گاؤں کا بھی جائزہ لیا گیا جس علاقے کا جائزہ لیا گیا ہر علاقہ پیاسا تھا ہر جگہ علم کی بھوک تھی اور ایک طلب تھی کہ ہمارے پاس آدمی بھیجو، ہمارے پاس آدمی بھیجو اور گنتی کے کل (معلم) غالباً جو پہلی کھیپ تھی وہ 53 تھے، پھر وہ 70 ہوئے پھر آہستہ آہستہ ان کی تعداد بڑھنے لگی تو وقف جدید نے ایک بہت ہی اہم ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کی اور وہ ضرورت ابھی تک باقی ہے اور اس ضرورت کا اسے احساس ہے جو بعض علاقوں میں نہیں ہے لیکن رفتہ رفتہ ہوتا چلا جائے گا اور یہ ایک ایسی ضرورت ہے جو دائمی ضرورت ہے اس لئے وقف جدید کی تحریک بھی عارضی تحریک نہیں بلکہ ایک دائمی تحریک ہے۔ابھی پاکستان تک میں وقف جدید کے جتنے معلمین کی ضرورت ہے اس کا دسواں حصہ بھی ہم پورا نہیں کر سکے۔مشرقی پاکستان جو پہلے کہلاتا تھا اب بنگلہ دیش ہے وہاں کی بھی ضرورت ہماری طاقت سے اس وقت بہت زیادہ ہے۔ہندوستان میں تو بہت ہی تکلیف دہ حالت ہے کیونکہ مالی لحاظ سے جماعت نسبتاً غریب ہے اور کچھ عرصے عدم تو جہگی کے نتیجہ میں وہاں کی مالی قربانی کا معیار بھی گر گیا تھا اب خدا کے فضل سے پھر بہتر ہورہا ہے تو اس لحاظ سے جتنی ضرورت ہے اس کے مقابل پر ہم ضرورت پورا کرنے کے لئے بہت کم موادر کھتے ہیں (معلمین ) کے لحاظ سے بھی بہت کم تعداد ہے اور اموال کی ضرورت کے لحاظ سے بھی ایک عرصہ تک بہت کمی محسوس ہوتی رہی ہے۔افریقہ جا کر آپ دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ خدا کے فضل سے بعض علاقوں میں بہت تیزی کے ساتھ جماعتیں پھیل رہی ہیں لیکن جماعتوں کے پھیلنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم نے اپنے مقصد کو حاصل کر لیا۔مقصد کا آغاز تو پھیلنے کے بعد ہوتا ہے جب کوئی علاقہ احمدیت کو قبول کر لیتا ہے تو اس علاقے میں روحانی انقلاب بر پا کرنا احمدیت کا کام ہے۔اگر قبول نہیں