خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 368 of 682

خطبات وقف جدید — Page 368

368 حضرت خلیفہ امسیح الرابع کتابوں کا ایک انبار گدھے کی پیٹھ پر لاد دیتا ہے اس طرح تو میں اپنی دینی ذمہ داریاں ان علماء کی پیٹھ پر لاد دیتی ہیں جن کی اپنی حالت اس زمانے تک گدھے جیسی ہی ہو چکی ہوتی ہے یعنی کتابوں کا بوجھ اٹھانے کے باوجود ان کے علم سے بے بہرہ اور انکی معرفت سے عاری ہوتے ہیں تو قرآنِ کریم سے پتہ چلتا ہے کہ یہود پر ایسا ہی ایک وقت آیا تھا کہ جب قوم نے اپنے دین کو بوجھ سمجھ لیا تھا اور بوجھ سمجھ کر انھوں نے بوجھ اٹھانے والے مزدور ڈھونڈے اور وہ کثرت سے ایسے علماء موجود تھے جنھوں نے اس بوجھ کو اٹھا لیا لیکن دینی لحاظ سے ان کے راہنما بھی وہ گدھے بن گئے اور جب گدھے قوم کے راہنما بن جائیں تو اس قوم کا ہلاک ہو جانا ایک منطقی نتیجہ ہے۔پس قرآن کریم نے یہ بہت ہی گہری مثال بیان فرمائی اور ہمیں نصیحت فرمائی کہ دیکھو پہلے ایک ایسا زمانہ گذر چکا ہے جب کہ ایک مذہبی قوم دین کے علم میں دلچسپی چھوڑنے کے نتیجے میں اس علم کو بوجھ سمجھنے لگی تھی اور جب قوم کی یہ نفسیاتی حالت ہو جائے تو جن لوگوں پر وہ بوجھ ڈالا جاتا ہے وہ خود بھی اس نفسیاتی حالت کا پھل ہوا کرتے ہیں اور قوم سے الگ نہیں ہوا کرتے۔چنانچہ بوجھ تو اٹھا لیتے ہیں لیکن علم وہ بھی حاصل نہیں کرتے اور ایسے لوگ گدھوں کی طرح ہوتے ہیں۔وہ آیت جس کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں یہ ہے: مَثَلُ الَّذِينَ حُمِلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْ هَا كَمَثَلِ الْحِمَارِيَحْمِلُ أَسْفَارًا (الجمعي:6) مَثَلُ الَّذِينَ حُمِلُوا التَّوْرَاةَ ان لوگوں کی مثال جن کو تو رات عطا کی گئی تھی تو رات کی ذمہ داریاں جن پر ڈالی گئیں تھیں ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا پھر وہ ذمہ داریاں ادا کرنے سے کترانے لگے اور ان ذمہ داریوں سے پیٹھ پھیر لى كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا ایک ایسے گدھے کی سی مثال ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، اب اس میں ایک طرف یہ ہے کہ انھوں نے بوجھ اٹھانا چھوڑ دیا۔دوسری طرف ہے کہ گدھے کی سی مثال ہے جس نے بوجھ اٹھایا ہوا ہے تو کیا مطلب بنتا ہے ، وہی مطلب بنتا ہے جو میں پہلے تفصیل سے آپکے سامنے رکھ چکا ہوں کہ قوم کو خدا تعالیٰ ذمہ داریوں کے طور پر شریعت عطا کرتا ہے وہ بوجھ مجھے لگتی ہے اور اس کی ذمہ داریاں ادا کرنے سے انکار کرتی ہے تو وہ بوجھ قوم کا ایک حصہ ضرور اٹھاتا ہے لیکن ایسے ہی اٹھاتا ہے جیسے گدھے کتا بیں اٹھانے والے ہوں۔بہر حال میں بتا رہا ہوں کہ اس زمانے میں جب وقفِ جدید سے منسلک ہو کر میں نے سارے پاکستان میں اور مشرقی پاکستان میں بھی ، اس وقت ہمارے ملک کا حصہ تھا، جائزے لئے تو اس قسم کے ہولناک کوائف نظر کے سامنے آئے۔اس وقت خیال آیا کہ اگر آغاز اسلام سے ہی دیہات کی طرف نظر رکھنے کے کوئی انتظام کئے جاتے تو جس طرح بعد میں اسلام فرقوں میں بٹ گیا ہے کوئی بعید نہیں تھا کہ اس کی اس ہلاکت سے مسلمانوں کو بچایا جا سکتا۔شہروں پر عموما لوگوں کی نظر