خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 367 of 682

خطبات وقف جدید — Page 367

367 حضرت خلیفة المسیح الرابع جدید کے معلم کن دیہات میں پہلے کام کریں اور یہ جائزہ لینے کا مقصد یہ تھا کہ جہاں سب سے زیادہ ضرورت ہوگی جہاں سب سے زیادہ لوگ نماز کے معانی سے غافل ہونگے ، دیگر روز مرہ کے مسائل سے ناواقف ہونگے وہاں وقف جدید کے معلمین کو پہلے بھیجا جائے گا تو اس وقت جب سارے ملک کا جائزہ لیا گیا تو بغیر کسی ارادے کے، مجھے پہلے یہعلم نہیں تھا کہ یہ حالات ظاہر ہونگے بغیر کسی ارادے کے مزید جستجو کا موقع ملا تو ایسی ایسی باتیں دریافت ہوئیں کہ جن سے توجہ اس طرف منتقل ہوئی کہ دیہات کے علاقے بعض پہلوؤں سے اخلاص میں بہت بہتر ہوتے ہیں لیکن بعض پہلوؤں سے دین کے علم میں اتنا پیچھے رہ جاتے ہیں کہ وہ آئندہ زمانوں میں نہایت خطرناک نتائج پیدا کر سکتے ہیں آپ کی آنکھوں کے سامنے دیکھتے دیکھتے ایک نسل آپ کے ہاتھ سے نکلتی چلی جارہی ہے اور آپ کو پتہ نہیں لگ رہا یہاں تک کہ دین کے علم سے بے بہرہ خالی اخلاص اندھی تقلید پیدا کیا کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں پھر ملائیت اُبھرتی ہے اور گدھوں کی طرح جس طرف چاہیں ایسے لوگوں کو ہانک کر لے جائیں۔جو چاہیں ان کا دین بنا کر ان کو بتا دیں کہ یہ تمہارا دین ہے جو مسلک آپ کا ہو آپ انکے ذمہ لگا دیں کہ یہی تمہارا مسلک ہے بغیر سوال کئے، بغیر سوچے بغیر کسی فکر اور تدبر کے یہ آنکھیں بند کر کے پیچھے لگ جانے والے لوگ بن جاتے ہیں۔تو اس پہلو سے جب میں نے اسلامی تاریخ کا جائزہ لیا تو وقف جدید کے ذریعے حاصل ہونے والے اعداد و شمار نے مجھے اسلامی تاریخ کے ایک پہلو سے المیہ کو سمجھنے کا موقع ملا اور قرآنِ کریم کی اس آیت کریمہ کو سمجھنے کا موقع ملا جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سے پہلے ایسی قو میں گذری ہیں یعنی یہود جن کا دین بالآخر ایسے ہو گیا تھا جیسے گدھوں پر کتابیں لا د دی گئی ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان لوگوں کی طرح نہ بن جانا جن کے علماء کا یہ حال تھا جیسے گدھوں پر کتابیں لا د دی گئی ہوں اور اس سے وہ صحیح استفادہ نہ کر سکتے ہوں۔اس تمثیل میں بہت ہی گہری حکمتیں پوشیدہ ہیں اور پہلی بار اس کی گہرائی کا علم مجھے اسی زمانے میں ہوا جب میں وقف جدید کے سلسلے میں علاقوں کے جائزے لے رہا تھا اور دیہاتی جماعتوں کے حالات کو اعدادوشمار کی صورت میں دیکھ رہا تھا، اس وقت پتہ چلا کہ قو میں جب دین سے بے بہرہ ہونے لگتی ہیں تو ایسے علماء کے سپر ددین کا بوجھ کر دیتیں ہیں جن کی اپنی حالت گدھوں کی طرح ہوتی ہے اور یہ مثال بہت ہی حسین مثال ہے۔انسان گدھے کی پیٹھ پر وہی بوجھ لا دتا ہے جو اس کو اٹھانا مصیبت لگتا ہے اور محض اٹھانے سے اس کو کوئی لذت محسوس نہیں ہو رہی ہوتی اور فائدہ نہیں ہوتا۔اب کتا ہیں تو پڑھنے سے فائدہ دیتی ہیں اور پڑھنے سے ہی لذت دیتی ہیں صرف کتابیں اٹھائے پھرنے کا تو کوئی مزہ نہیں تو جب دین کی باتیں ایسی ہو جائیں کہ وہ بوجھ ہی بن جائیں نہ ان کا ذاتی علم رہے، نہ ان کے پڑھنے کا شوق رہے تو انسان جس طرح