خطبات وقف جدید — Page 361
361 حضرت خلیفة المسیح الرابع خطبه جمعه فرموده 4 / جنوری 1991 ء بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 1957ء کا سال میری زندگی میں ایک لحاظ سے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اسی سال مجھے دو طرح سے نئی زندگی میں داخل ہونے کا موقعہ ملا ایک تو میری ازدواجی زندگی کا آغاز 1957ء کے آخر پر دسمبر کے مہینے میں ہوا اور دوسرے اسی سال کے آخر پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وقف جدید کی تحریک کا آغاز فرمایا اور مجھے وقف جدید کی مجلس کا سب سے پہلا ممبر مقرر فرمایا اور اس کے بعد ایک لمبے عرصہ تک مجھے وقف جدید میں خدمت کا موقع ملا اس لحاظ سے میری باقاعدہ جماعتی خدمت کا آغاز 1957ء میں ہوا۔اس واقعہ کو 33 سال گذر چکے ہیں اور آج میں وقف جدید کے نئے سال کا اعلان کرنے والا ہوں یہ نیا سال 34 واں سال ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ اس عرصے میں وقف جدید کو غیر معمولی ترقی کی توفیق عطا فرمائی۔شروع شروع میں یہ تحریک بہت معمولی دکھائی دیتی تھی۔آغاز بھی غریب نہ تھا اور چال چلن بھی غریبانہ۔دیہات کے ساتھ اس کا تعلق تھا اور دیہاتی معلمین جو اس تحریک کے تابع خدمت پر مامور تھے ان کا ماہانہ گزارا بھی بہت ہی معمولی بلکہ اتنا معمولی کہ ایک عام مزدور سے بھی بہت کم تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی قناعت کے ساتھ اور بڑی خوش خلقی کے ساتھ انھوں نے ہر گزارے پر گزارا کیا اور خدمت دین میں بہت جلد جلد آگے بڑھنے لگے یہاں تک کہ تھوڑے ہی عرصے کے اندر وقف جدید کا سالانہ بیعتوں کا ریکارڈ باقی اس قسم کی دوسری تمام انجمنوں کے اداروں یا تحریکات سے آگے نکل گیا اور لمبے عرصے تک وقف جدید بیعتیں کروانے کے میدان میں اول رہی۔اسی طرح وقف جدید کو ایک بہت ہی عظیم الشان خدمت کا تھر کے علاقے میں موقع ملا۔یہ وہ علاقہ ہے جہاں ہندو بکثرت آباد ہیں اور یہی ایک وہ علاقہ ہے جہاں آج بھی مسلمانوں کے مقابل پر ہندوؤں کی اکثریت ہے لیکن اکثر ہندو اچھوت کہلانے والے ہیں یعنی ہندوؤں کی طبقاتی تقسیم کے لحاظ سے سب سے نچلے درجے سے تعلق رکھتے ہیں۔وقف جدید کا جس سال آغاز ہوا ہے اسی دوران عیسائیوں نے جو امریکہ سے غیر معمولی طور پر مدد حاصل کر رہے تھے تھر کے علاقے پر وہاں کے باشندوں کو عیسائی بنانے کے لئے یلغار کی اور اس لحاظ سے یہ الہی تحریک خاص طور پر اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔کہ اگر وقف