خطبات وقف جدید — Page 351
351 حضرت خلیفہ مسیح الرابع یہ وہ سال ہے کہ جب بیعتوں کے لحاظ سے بھی اس کثرت سے لوگوں کو جماعت احمدیہ میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے کہ جب آپ اس کا گراف دیکھیں تو آپ حیران رہ جائیں گے یوں لگتا ہے جیسے ایک بلند ہوتی ہوئی سڑک پر اچانک مینار بنا دیا گیا ہو اور مینار کے ساتھ وہ سڑک اٹھنی شروع ہو جائے لیکن یہ بھی مجھے یقین ہے میں خدا کے فضل سے یہ امید رکھتا ہوں کہ چونکہ یہ اتفاقی واقعہ نہیں اس لئے یہ ترقی کی جورو ہے یہ آگے بڑھے گی اور پیچھے نہیں ہٹے گی۔دنیا کی تاریخ میں تو یہ سال اُبھرا ہے اور ابھر کر پھر کسی حد تک نیچے گرنے والا ہے مگر میں خدا تعالیٰ کے فضل سے امید رکھتا ہوں اور اسی کے لئے آپ کو دعا کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ دعا یہ کریں کہ مڑکر دیکھیں تو اس سال کے پیچھے گہرائی دکھائی دے مگر آگے دیکھیں تو پھر اور اٹھتے ہوئے بلند تر مینار دکھائی دیں اور یہ سال آئندہ ترقی کے لئے رفتاریں سیٹ کرنے والا پیس میکر (Pace Maker) بنے جس طرح دوڑوں میں سب سے اگلا کھلاڑی جو سب سے زیادہ تو انا ہوتا ہے اور چست و چالاک ہوتا ہے اور رفتار میں سب سے زیادہ نمایاں طور پر آگے بڑھنے کی توفیق پاتا ہے ایسے کھلاڑی کو کہتے ہیں اس نے پیس (Pace) سیٹ کر دی یعنی اس نے باقی کھلاڑیوں کے لئے رفتار معین کر دی اب وہ اس کا ساتھ دے سکیں گے تو ساتھ چلیں گے ورنہ پیچھے رہ جائیں گے۔تو خدا کرے کہ یہ سال آئندہ سالوں کے لئے پیس (Pace) سیٹ کرنے والا سال ثابت ہو اور اس سال کے بعد میں آنیوالے سال گویا اس سال سے سبق سیکھتے ہوئے اسی رفتار سے آگے بڑھیں جس رفتار سے یہ سال اللہ کے فضل و کرم کے ساتھ آگے بڑھا ہے۔اس موقع پر ہمیں خاص طور پر دعا کرنی چاہئے کہ یہ جو عالمی تغیرات ظاہر ہوئے ہیں جن کے متعلق ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ اسلام کی ترقی کے لئے خدا تعالیٰ کی تقدیر نے نئی بنیادیں قائم کی ہیں یا نیا موڑ موڑا ہے اس موڑ پر کھڑے ہو کر جو آئندہ دنیا ہمیں دکھائی دیتی ہے اس کے لئے بہت دعاؤں کی ضرورت ہے اور ان دعاؤں کی ضرورت ہے کہ خدا کی تقدیر نے ترقی کے یہ جو آثار باندھے ہیں، ہم اس بات کے اہل ہوں کہ ان سے پوری طرح استفادہ کر سکیں۔ہم اس بات کے اہل ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کی ترقی کے جو نئے دروازے کھولے ہیں نئے ایونیو (Avenue) نئے ایوان ہمارے لئے ہم پر روشن کئے ہیں اُن تک پہنچنا ہم پر آسان فرما دیا ہے ان سے بھر پور استفادے کی ہمیں توفیق ملے اور جس جس طرف سے خدا تعالیٰ کی تقدیر نے ہمیں آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے، جس طرح تیز ہوائیں پیچھے سے دھکیلتی ہیں تو جس کو دھکیلا جا رہا ہے اس کی کوشش کا بھی کوئی دخل ہوا کرتا ہے۔یہ تو درست ہے کہ بعض دفعہ آندھیاں اتنی تیز بھی چلتی ہیں کوئی جانا چاہے یا نہ چاہے اس سمت میں اس شخص کو دھکیلتی ہوئی لے جاتی ہیں لیکن اگر دوڑنے والا اسی سمت میں دوڑنا