خطبات وقف جدید — Page 329
329 حضرت خلیفہ امسیح الرابع یہی ہے کہ مجلس عاملہ کے دستور مقرر ہونے چاہئیں۔ان میں وقتا فوقتا بعض جائزے پیش ہوتے رہنے چاہئیں۔جن لوگوں کو اس قسم کے کام کی عادت ہو جیسے سائنس دان اور حساب دان کرتے ہیں ان کی اپنی کمزوریوں پر پردے پڑ جاتے ہیں کیونکہ اجتماعی طاقت کے ساتھ ان کی شخصیت کو بھی طاقت ملتی ہے جن کے اندر اپنی خوبیاں نمایاں ہوں لیکن وہ حسابی رنگ میں سائنسی رنگ میں ، کام کرنے کے عادی نہ ہوں ان کی کمزوریاں باقی جماعت کی کمزوریاں بن جاتی ہیں۔آپ کو ایک دانشور باشعور جماعت کی طرح کام کرنا چاہیے اور ایسا نظام بنانا چاہیے جس میں خلا کے احتمالات باقی نہ رہیں۔ہر شعبہ زندگی جس میں ایک منصوبہ جماعت کے سامنے پیش کیا گیا ہے یا جماعت کے مستقل منصوبوں میں داخل ہو چکا ہے۔ہر تحریک جو کی جاتی ہے اس کے تقاضوں سے کس طرح نپٹنا ہے، اس کام کو کیسے سمیٹنا ہے، وقتاً فوقتاً کس طریق پر جائزہ لینا ہے کہ ہماری بھول چوک جماعت کی بھول چوک نہ بن جائے ، ہماری غفلت جماعت کی غفلت نہ بن جائے۔یہ ہے ایک اچھے منتظم کا کام اور اس پہلو سے انجمنوں کو بھی اپنی ماتحت انجمنوں کی مدد کرنی چاہیے۔انجمنوں کا کام صرف یہ نہیں کہ جو ریز ولیوشن سامنے آجائے یا کسی کی ترقی کی درخواست آجائے اسی پر غور کر کے معاملہ کوختم کردیں ان کو تو فعال سوچ کا حامل ہونا چاہیے۔ذہن اور عقل کا کام صرف یہ تو نہیں ہے کہ جو تاثرات اس کے بدن کے مختلف حصوں سے اس کو ملتے ہیں انہی کا وہ جواب دے بلکہ وہ فکرمند رہتا ہے اور مختلف حالات کا جائزہ لے کر ہر وقت سوچوں میں مبتلا رہتا ہے کہ کس وقت کیا کرنا ہے، کونسے حصے کی طرف کیا ضرورت ہے، کہاں قدم کس رنگ میں آگے بڑھانا ہے، کس کمی کو کس طرح پورا کرنا ہے۔وہ اتنا کام کرتا ہے کہ بدن سو جاتا ہے ذہن نہیں سوتا بلکہ بدن کے مقابل پر بہت کم سوتا ہے اور خدا نے اسی لئے اس کو استطاعت بھی ایسی بخشی ہے کہ انجمنوں کو بھی اپنے دماغوں کو اسی طرح استعمال کرنا چاہیے جس طرح خدا تعالیٰ نے قدرت کے نمونے بنا کے دکھا دیئے ہیں اور ان نمونوں سے استفادہ کرنا چاہیے تو میں امید رکھتا ہوں کہ انجمنوں کی طرف سے وقتاً فوقتاً ایسا جائزہ لیا جایا کریگا۔وقف جدید کی انجمن کا وقف جدید کے معاملہ میں اور عموما مجھے یاد ہے وہ ( جائزہ لیتے بھی ہیں لیکن اس رنگ میں غالبا وہ نہیں لیتے کہ ہر ضلع کی مجلس آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کو بتا ئیں کہ آپ جو کر رہے ہیں یہ ٹھیک نہیں ہے آپ کو یوں کرنا چاہیے۔تحریکوں کی چٹھیاں تو پہنچتی ہیں یہ تو مجھے پتہ ہے لیکن مدد نہیں کی جاتی۔ان دو چیزوں میں بڑا فرق ہے۔آپ کسی کو یاد دہانی کروادیں کہ یہ کام ہونا چاہیے جس طرح کہ یہاں سے بھی ہر وقت مختلف دنیا کی جماعتوں کو یاد دہانی کروائی جاتی ہے۔یہ تو کم سے کم ذمہ داری ہے جو مرکز کو ادا کرنی چاہیے لیکن ایک ذمہ داری ہے کمزوروں کی مددکرنا۔ایسے لوگ جو خود