خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 324 of 682

خطبات وقف جدید — Page 324

324 حضرت خلیفہ مسیح الرابع کرنے کیلئے کل یہ صفحہ ہستی سے مٹادینے کے لئے یہ کارروائیاں کی گئیں اور اب بھی کی جارہی ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جماعت اپنے اخلاص میں پہلے سے زیادہ ترقی کر چکی ہے، اپنی عبادتوں میں پہلے سے زیادہ ترقی کر چکی ہے، اپنے حوصلوں میں پہلے سے زیادہ ترقی کر چکی ہے، ہر قربانی کے میدان میں جس قربانی کے میدان کی طرف اس کو بلایا جاتا ہے وہ پہلے سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ پہلے سے زیادہ سعادت قلبی کے ساتھ لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھتی ہے، ایسی زندہ جماعت کو جسے قرآن کریم دجال کی جماعت فرماتا ہے کون ہے جو انہیں مار سکے، ناممکن ہے۔پھر باقی تمام دنیا کی جماعتوں پر جور وفق آئی ہے جو غیر معمولی طور پر ترقیات ہورہی ہیں وہ اسی خزاں کی برکت ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے الہی وعدوں کے متعلق فرمایا تھا۔بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں ساری دنیا میں اس خزاں کے صدقے آپ بہار کے مناظر دیکھ رہے ہیں۔یہ زندہ جماعتوں کی علامت ہے پس جن کو خدا سے زندگی ملتی ہے ، جن کو آسمانی پانی کے ذریعہ زندہ کیا جاتا ہے ان کو دنیا کی خشیاں مار نہیں سکتیں۔یہ ایسا اٹل قانون ہے جسے آپ کبھی تبدیل ہوتا نہیں دیکھیں گے۔چنانچہ سال کے آخری خطبہ جمعہ میں یا بعض دفعہ نئے سال کے پہلے خطبہ جمعہ میں وقف جدید کے نئے سال کا اعلان ہوتا رہا ہے۔پس اس تمہید کے بعد اب میں وقف جدید کے سال نو کا اعلان کرتا ہوں۔اور جیسا کہ وقف جدید کے کوائف خود ہی آپ کو بتائیں گے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جن حالات میں سے یہ تحریک گزر رہی ہے اور اس وقت جس مقام پر پہنچی ہے اس سب حالات کا جائزہ لینے سے قطعی طور پر یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ بھی ایک زندہ جماعت کی زندہ سرسبز شاخ ہے اور اس کی طرف بد نیتی کا تب نہیں چلایا جاسکتا۔یہ بھی ہر حال میں نشو و نما پائے گی اور پاتی رہی ہے اور آگے بڑھتی رہے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔چنانچہ گزشتہ چند سالوں میں وقف جدید پاکستان کا بجٹ اور وصولی کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھتے رہے ہیں۔جب میں نے وقف جدید کو چھوڑا تھا اس وقت مجھے صحیح یاد نہیں غالباً تیرہ یا چودہ لاکھ کے قریب اسکا بجٹ تھا۔اب اس تھوڑے سے عرصہ میں جو ابتلاؤں کا دور ہے خدا کے فضل سے بجٹ تقریباً ڈ گنا ہو چکا ہے اور 87ء کا بجٹ 27,45000 روپے تھا۔اس وقت تک کی جو وصولی ہے اس میں بھی خدا کے فضل سے نمایاں اضافہ ہے گزشتہ سال اس وقت تک -/17,44000 روپے وصولی تھی اور امسال اس وقت تک -/87000, 20 روپے وصولی ہے۔چونکہ پرانی روایات بھی اسی طرح قائم ہو چکی ہیں کہ سال کے آخر پر وصولی اکٹھی ملتی ہے یعنی اس کی یہ نسبت نہیں ہوا کرتی کہ ہر مہینہ جتنی وصولی ہورہی ہے سال کے