خطبات وقف جدید — Page 323
323 حضرت خلیفہ مسیح الرابع خدا کے بندوں کی طبیعتیں جب روک دی جاتی ہیں تو نالے پیدا ہونے بند نہیں ہوا کرتے۔خدا تعالیٰ نے مومنوں کو طبعی قو تیں عطاء فرمائی ہیں وہ تو مر نہیں جایا کرتیں اس لئے کچھ نہ کچھ زور لگا کر وہ اندرونی سیلاب کہیں سے رستہ نکالتا ہی رہتا ہے یعنی پھر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ ساری روکیں تو ڑ دی جاتی ہیں اور وہ پہلی کمی کو بڑی شان کے ساتھ پورا کرتے ہوئے بڑی قوت کے ساتھ پھر آگے بڑھتے ہیں۔دوسرا ان کے ساتھ خدا تعالیٰ یہ سلوک فرماتا ہے کہ ساری دنیا میں ہر جگہ ان کیلئے ایک جیسا وقت نہیں رہتا اسی کے ساتھ ہجرت کے مضمون کا تعلق ہے۔بعض جگہ ان کیلئے نسبتاً کمزوری کا وقت آتا ہے تو بعض دوسری جگہوں پر غیر معمولی طور پر ان کیلئے آگے بڑھنے اور نشو ونما کے وقت آ جاتے ہیں اور ایک جگہ کی جو کمی ہے وہ سینکڑوں دوسری جگہوں سے پوری کر دی جاتی ہے اور مجموعی طور پر خزاں میں بھی وہ بہار کا منظر دکھائی دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ شعر مجھے بہت ہی پیارا ہے اور بار ہا میں اسے آپ کے سامنے پڑھ چکا ہوں اسکا ایک مفہوم یہ ہے جس کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں بعض مقامات پر وقتی طور پر آپ یہ شعر صادق ہوتا نہیں دیکھیں گے لیکن اس مضمون کو کلیۂ عالمی سطح پر آپ سمجھیں تو پھر آپ کو معلوم ہوگا کہ مومن کے اوپر خزاں آہی نہیں سکتی۔جب خزاں آتی بھی ہے تو ہزار دوسری جگہوں پر خدا تعالیٰ بہار کے مناظر پیدا کر کے اس خزاں کے اثر کو زائل فرما دیا کرتا ہے اس کی تلافی فرما دیتا ہے اور جہاں خزاں آتی ہے وہاں بھی نئی نئی کونپلیں پھوٹا کرتی ہیں۔چنانچہ پاکستان میں ان دنوں جس قسم کے حالات ہیں یا جماعت کی ترقی کو روکنے کیلئے جس قسم کی ظالمانہ کا روائیاں ہو رہی ہیں ان میں جلسہ کا روکنا بھی ایک کارروائی ہے۔ہمارے لٹریچر کو کلیۂ بند کر دینا بھی ایک کارروائی ہے۔ہمارے تمام اخبارات اور رسائل کا گلا گھونٹ دینا بھی ایک کارروائی ہے۔ہمیں تمام بنیادی حقوق سے محروم کر دینا یہاں تک کہ کلمہ لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ پڑھنے سے روک دینا یعنی بنیادی انسانی حق سے بھی محروم کر دینے کی کوشش کرنا بھی ایک کا روائی ہے۔ان حالات میں جبکہ اس کے علاوہ بھی دنیاوی ظالمانہ کاروائیاں کی جا رہی ہیں قتل و غارت کرنا ، بنیادی حقوق یعنی نوکریوں کے حقوق سے محروم کرنا، طلبا کو انکے حقوق سے محروم کر دینا، عام روز مرہ زندگی کو اجیرن بناد بنا یہ بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔کون سوچ سکتا ہے ایسی جماعت ایسے خطر ناک حالات میں ترقی کر سکتی ہے۔اگر یہ جماعت جھوٹ اور فریب ہو تو ناممکن ہے کہ ایسے خطر ناک حالات میں کوئی جماعت بھی پنپ سکے گجا یہ کہ ترقی کرتی رہے۔کوئی جماعت سانس لے سکے اور زندہ رہے یہ تعجب کی بات ہے اور اس جماعت کو مارنے کی خاطر تباہ