خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 322 of 682

خطبات وقف جدید — Page 322

322 حضرت خلیفہ امسیح الرابع ہے اس کی زندگی قائم رہتی ہے۔پس جماعت احمدیہ کی سوسالہ ( یا تقریباً سو سالہ ) تاریخ ہمیں یہی بتا رہی ہے کہ جس طرح دور اول میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے غلاموں کے حالات کو جن کو رجال فرمایا گیا ان پر روشنیوں کے وقت بھی آئے اور اندھیروں کے وقت بھی آئے ، ان پر نرمی کے وقت بھی آئے ان پر سختی کے وقت بھی آئے لیکن ہر حال میں وہ ہمیشہ آگے بڑھتے رہے کبھی کچھ تکلیف اور دُکھ کے ساتھ چھوٹے قدموں سے کبھی بڑی شان کے ساتھ تیز قدموں کے ساتھ دوڑتے ہوئے آگے بڑھے لیکن حضرت محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے غلاموں کی زندگی میں ایک دن بھی ایسا نہیں آیا کہ جب آپ کے قدم رک گئے ہوں یا روک دیئے گئے ہوں اور آپ کو پیچھے ہٹنا پڑا ہو، ایک رات بھی ایسی نہیں آئی جس نے آپ کی زندگیوں کو نور سے محروم کر دیا۔بارش کی مثال میں شبنم فرمایا گیا ہے رات کی مثال میں ستاروں کو قرآن کریم پیش فرماتا ہے کہ اگر سورج کی روشنی سے محروم ہو جائیں یا چاند کی روشنی سے بھی محروم ہو جائیں تو ستارے ان کی راہنمائی فرماتے رہیں چنانچہ صلى الله آنحضرت ﷺ نے بھی قرآن کریم میں ستاروں کی روشنی کے ذکر کو روحانی معنوں میں پیش فرمایا ہے چنانچہ فرمایا اَصْحَابِی كَا لَنُّجُومِ بِأَتِهِم اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمُ۔میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں اگر میں بھی نہ ہوں اور مجھ سے نور پانے والے چاند بھی باقی نہ رہیں۔کسی ایک جگہ میرا کوئی صحابی موجود ہوتو وہ تمہارے لئے ستاروں کی طرح روشنی پیدا کرنے والا ہوگا۔چنانچہ مومنوں کی عجیب حالت ہے عجیب شان ہے کہ خشک سالی میں خدا ان کیلئے شبنم برسا دیتا ہے وہ اسی پر زندہ رہتے ہیں اسی پہ آگے بڑھنے کی طاقت پا جاتے ہیں۔اندھیروں کے وقت ان کو ستاروں کی روشنی میسر آجاتی ہے کسی حالت میں بھی کلیہ یہ فوائد سے اور ترقیات سے محروم نہیں کئے جاتے۔چنانچہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آپ جماعت کی تاریخ کے نشیب و فراز کا مطالعہ کریں کئی دفعہ بڑے بڑے خطر ناک وقت آئے ہیں جبکہ دشمن سمجھتا تھا کہ یہ جماعت کو ہلاک کر دے گا صفحہ ہستی سے اس کی صف لپیٹ دے گا اس وقت بھی جماعت ترقی کرتی گئی مقابلہ چند سختی کے دنوں میں کچھ رفتار میں کمی ضرور دکھائی دی لیکن خدا تعالیٰ نے اس کمی کو ہمیشہ دوطریق سے پورا کیا کیونکہ وہ کمی ایک طبعی فطری کمزوری کے نتیجہ میں نہیں تھی بلکہ ایسے حالات کی بناء پر تھی جن پر براہ راست وہ عبور حاصل نہیں کر سکتے تھے اسلئے اس عرصہ میں ان کی بڑھنے کی قوت جمع ہوتی رہی چنانچہ جیسا کہ کسی نے کہا ہے: پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے رکتی ہے میری طبع تو ہوتی ہے رواں اور