خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 306 of 682

خطبات وقف جدید — Page 306

306 حضرت خلیفہ مسیح الرابع نوجوان ایسے ہونگے جن کو اس کا ترجمہ نہ آتا ہو گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ تَبَوَّوُا لدَّارَ وَالْإِيْمَانَ مِن قَبْلِهِمْ یعنی انصار جو مدینہ کے بسنے والے ہیں یہ مہاجرین کے آنے سے پہلے ہی ان گھروں میں بستے تھے مدینہ کو آباد در کھے ہوئے تھے اور ان کے پہنچنے سے پہلے ہی یہ ایمان قبول کر چکے تھے چنانچہ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ اليهم جو لوگ بھی ہجرت کر کے ان کی طرف آتے تھے یہ ان سے گھبراتے نہیں تھے بلکہ بہت محبت کرتے تھے۔ان کے گھر تھے جن کو باہر سے آنے والوں نے آبادان معنوں میں کرنا تھا کہ ان کے گھر سے حصہ پانا تھا۔ان کے اموال میں شریک ہونا تھا ان کے اوپر دنیا کی زبان میں ایک بوجھ بننا تھا۔مگر یہ ایسے عجیب لوگ ہیں کہ ان کے آنے سے ان کے دل میں تنگی محسوس نہیں ہوئی بلکہ یہ آنے والوں سے بہت ہی محبت کرتے تھے۔وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا اُوْتُوا اور اللہ اور اس کے رسول جو کچھ بھی ان آنے والوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے دیئے ہوئے اموال میں سے کچھ دیتے تھے اس پر ان کے دل میں ذرا بھی تنگی محسوس نہیں ہوتی تھی کہ ہم خرچ کر رہے ہیں۔ہم قربانیاں کر رہے ہیں جب اللہ تعالیٰ غنیمت کا مال عطا کرتا ہے تو یہ مہاجرین کو دے دیتے ہیں اور انصار جن پر ان کا بے حد قرضہ ہو چکا ہے جو اپنے اموال میں شریک کر کے ان کے سارے بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں ان کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔اس قسم کا کوئی وہمہ بھی ان کے دل میں نہیں آتا تھا بلکہ وہ خوشی محسوس کرتے تھے کہ ہمارے محبوبوں کو خدا تعالیٰ کچھ اور عطا فرما رہا ہے۔اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب ان کو کچھ دیا جاتا تھا تو اس کے لئے کوئی حاجت محسوس نہیں کرتے تھے یعنی ان کی نظر میں کوئی حرص نہیں تھی کوئی لالچ نہیں تھا۔یہ نہیں تھا کہ اپنے جذبے دبا کر بیٹھے ہوئے ہیں ، منہ سے تو نہیں مانگتے لیکن دل میں بے قرار تمنا ہے کہ کسی طرح ہمیں بھی کچھیل جائے بلکہ اگر مانتا بھی تھا تب بھی اس کے لئے اپنے آپ میں ایسی کوئی رغبت محسوس نہیں کرتے تھے کہ گویا تمنا کے بعد کوئی چیز ملی ہے۔مگرا انکار بھی نہیں کرتے تھے کیونکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ہاتھوں سے ایک تنکا بھی کسی کو ملتا تھا تو وہ عزت افزائی سمجھتا تھا۔پھر فرماتا ہے۔وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ بِهِ عجيب لوگ ہیں کہ ان کے اندر یہ ایثار کی حسین عادتیں یہ دلکش اطوار اس لئے نہیں ہیں کہ یہ بہت امیر ہیں اور امارت کی وجہ سے اموال کی کثرت کی وجہ سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔فرمایا وَ يُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ یہ اپنے نفسوں پر اللہ کی راہ میں آنے والوں کو اور دوسروں کی ضروریات کو اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے کو اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں باوجود اس کے کہ خود سخت تنگی میں مبتلا ہوتے ہیں۔یعنی ان میں ایسے بھی ہیں جو خود شدید غربت کا شکار ہیں لیکن اس کے باوجود اپنے اوپر اسلام کی ضرورتوں کو ترجیح دے رہے ہیں اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے میں لذت پارہے ہیں۔وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ