خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 305 of 682

خطبات وقف جدید — Page 305

305 حضرت خلیفہ مسیح الرابع جس کے متعلق میرا یہ اعلان ہے وَلَلَا خِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الأولی کہ تیرا ہر آنے والا لمحہ ہر گزرے ہوئے لمحہ سے بہتر ہوتا چلا جائیگا۔پس اسکی پیروی کے صدقے ہم تجھ سے بھی وعدہ کرتے ہیں کہ تیرا بھی ہر آنے والالمحہ تیرے ہر گزرے ہوئے لمحہ سے بہتر ہوتا چلا جائے گا۔ان معنوں میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اور یہ امید رکھتے ہوئے کہ وہ میرے نیک ارادوں کو عمل میں ڈھالنے کی مجھے توفیق بخشے گا اور آپ کے نیک ارادوں کو عمل میں ڈھالنے کی آپ کو توفیق بخشے گا۔میں آپ کو یعنی ساری جماعت احمد یہ عالمگیر کو نئے سال کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور تمام جماعت احمد یہ عالمگیر کی نمائندگی میں تمام بنی نوع انسان کو نئے سال کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اس یقین دہانی کے ساتھ کہ ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ ہمارا فیض تم تک پہلے سے زیادہ سمتوں سے زیادہ بھر پور طور پر پہنچتا ہے۔اللہ کرے کہ ہمیں اس عہد کو نبھانے کی توفیق ملے اور ہمارا یہ سال اس طرح ختم ہو کہ گذرتا ہوا وقت ہمیں مبارکباد دے رہا ہو کہ تم نے اپنے ایک مبارک عہد کو خوب نبھایا۔اس مضمون کا دوسرا حصہ اس آیت کریمہ سے تعلق رکھتا ہے جس کی میں نے شروع میں تلاوت کی تھی جس میں مومنوں کی بعض صفات بیان کی گئی ہیں جہاں تک مفسرین کا تعلق ہے وہ اس ضمن میں مدینہ میں ہونے والے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ اس آیت کی شان نزول وہ واقعہ ہے۔وہ واقعہ بہت خوبصورت اور بڑا دلکش ہے ، بہت اثر پذیر ہے لیکن قرآن کی کسی آیت کا ماضی کے کسی واقعہ سے اس طرح تعلق باندھا نہیں جاسکتا کہ یہ آیت ماضی کی ہو کر رہ جائے۔یہ بھی وقت کی طرح قرآن کریم کا ایسا جاری مضمون ہے کہ ہمیشہ کسی ایک لمحہ کا کروڑویں حصہ میں بھی اس کے کسی مضمون کو اس طرح قرار نہیں آیا کہ وہ وہاں ٹھہر جائے۔وقت کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کا ہر مضمون ہر جہت میں آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور ہرنئی صورتحال پر نئے رنگ میں اثر انداز بھی ہوتا جاتا ہے اور اس پر اطلاق بھی پاتا چلا جاتا ہے۔اس لئے جب بھی شان نزول کا کوئی واقعہ بیان کیا جائے تو اس سے یہ مراد نہیں لینی چاہیے کہ صرف اس واقعہ کی خاطر یہ آیت نازل ہوئی تھی بلکہ مراد یہ ہے کہ قرآن کریم نے جو نازل ہونا تھا بہر حال اس کے نزول میں بھی یہ ایک عجیب شان ہے کہ برمحل نزول ہوا ہے۔قرآن کریم کے دور میں جب کوئی ایسا واقعہ نمودار ہوا جس کے ساتھ کوئی آیت قریب تر تعلق رکھتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا نزول اس وقت کے لئے اٹھا رکھا جب وہ واقعہ رونما ہو اور اس کے ساتھ اس کا تعلق باندھ دیا تا کہ اس کے نزول کے ساتھ ساتھ اس کی تفہیم بھی ہوتی رہے کہ کس قسم کے مضامین ہیں جن کا ان آیات سے تعلق ہے۔پس شان نزول سے صرف اتنی مراد ہے۔لیکن اس واقعہ کو بیان کرنے سے قبل اس آیت کا ترجمہ کردینا چاہتا ہوں کیونکہ ہمارے بہت سے