خطبات وقف جدید — Page 304
304 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ہے؟ وقت کے پہیئے کے گھومنے میں تمہارا ایک ذرہ بھی دخل نہیں ہے۔کسی محنت سے یہ پھنسا ہوا پہیہ تم نے نکالا تھا کہ جسے دوبارہ چلانے کی خوشی میں تم ایک دوسرے کو مبارک بادیں دے رہے ہو۔کیا واقعہ گزرا ہے جس کے نتیجہ میں مبارکباد کا انسان مستحق ہوا ہے اس لئے اس پہلو سے اگر آپ اس رسم کا جائزہ لیں تو ایک بالکل بے معنی اور کھوکھلی رسم ہے اس کی کچھ بھی حقیقت نہیں جہاں تک ایک مومن کا تعلق ہے اس کے اوپر بھی یہ دور آتا ہے۔مومن بھی ہر دفعہ اس دور کے ایک خاص مقام میں سے گزرتا ہے جہاں وقت کے لحاظ سے اس نے ایک نشان لگا رکھا ہے۔یہ 1946ء کا نشان ہے۔یہ 47ء کا یہ 48 ء یہ 49ء کا یہ 50ء کا اور اس طرح یہ نشان آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔اس کے دل میں بھی خیال آتا ہے کہ میں بھی مبارک باد دوں۔وہ بھی خوشیوں کا اظہار کرتا ہے لیکن اگر وہ حقیقی طور پر عارف ہے تو اس خوشی کے اظہار کی اس کو قیمت دینی پڑے گی بے قیمت اور بے مقصد اور بے وجہ اس کی خوشی کا اظہار اس کے لئے اس پر پھبتا نہیں، اسکے لئے جائز نہیں کیونکہ ایک مومن کا رد عمل ایک کافر کے رد عمل سے بالکل مختلف اور معنی خیز ہونا چاہئے اس کی زندگی کا کوئی حصہ لغوشمار نہیں ہونا چاہئے سو مبارک باد تو دینے کا مومن کو بھی دل چاہتا ہے اور یہ اس کا حق بھی ہے بلکہ اگر غور کریں تو صرف اسی کا حق ہے لیکن اس مبارکباد کی اس کو قیمت دینی ہوگی۔مبارکبا دان معنوں میں وہ دے سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے میرے ذمہ جو دنیا کے حالات بدلنے کی اہم ذمہ داری ڈالی ہے اے میرے بھائیو! میری بہنو! میرے بچو! میرے بڑو! اور میرے چھوٹو ! اے مسلمانو! اور اے غیر مسلمانو! میں تمہیں مبارکباد دیتا ہوں کہ میں ایک نئے عزم کے ساتھ اس سال میں داخل ہورہا ہوں کہ مجھ سے بھلائی پہلے سے زیادہ قوت اور شدت کے ساتھ پھوٹ کر تم تک پہنچے گی۔اور میں بالا رادہ یہ کوشش کروں گا کہ میرا فیض نسبتاً زیادہ عام ہو ، اس میں پہلے سے زیادہ قوت ہو اور اس میں کم تعصبات پائے جائیں۔میں پہلے سے بڑھ کر کوشش کروں گا کہ سب سے بڑا فیضان رساں وجود یعنی حضرت محمد مصطفی عملہ کا فیض جس طرح ہر خاص و عام کے لئے عام تھا، ہر شرق و غرب میں بسنے والے کے لئے عام تھا، انسانوں کے لئے بھی تھا اور جانوروں کیلئے بھی تھا، جانداروں کیلئے بھی تھا اور بے جانوں کے لئے بھی تھا، اسی طرح میں بھی اپنے فیض کو ہر اس سمت میں آگے بڑھانے کی کوشش کروں گا جس سمت میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا فیض موجیں مارتا ہوا بڑھتا رہا۔یہ عہد لے کر جب ایک مومن ایک وقت کے نئے دور میں داخل ہوتا ہے تو اس کا حق ہے کہ وہ دوسروں کو مبارک باد دے اور وہ مستحق ہے کہ اسے مبارکباد دی جائے کیونکہ اس کے اوپر قرآن کریم کی اس آیت کا بھی اطلاق ہوگا ولَلَا خِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأولى (الضحی : 5) خدا کی تقدیر سے مخاطب کر کے یہ کہے گی کہ تم نے میرے اس بندے کی متابعت کی ہے، میرے اس بندے کی پیروی کی ہے