خطبات وقف جدید — Page 294
294 حضرت خلیفہ امسیح الرابع گی ، وہ شفا خانوں کو چھوڑ دے گی۔اسلئے میں امید رکھتا ہوں کہ وقف جدید کو جو بفضل اللہ تعالیٰ یہ امتیاز حاصل ہے کہ خدا ان کے ساتھ ہے، اسی کی بدولت وہاں عیسائیوں کی کارروائی کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔انشاء اللہ۔اسکے علاوہ سندھ میں جو زمیندار توفیق رکھتے ہیں ان کو میں تحریک کرتا ہوں کہ وہ اس علاقے میں زیادہ وقف عارضی کے طور پر جانا شروع کریں شہروں کے لوگ بھی مثلاً کراچی ، حیدر آباد وغیرہ اور خصوصاً سندھ کے علاقے کے لوگ جو کسی پہلو سے بھی ان قوموں کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہوں ( مثلاً ڈاکٹر ہوں ، وکیل ہوں تعلیم کے ماہر ہوں یا کسی اور پہلو سے دوسروں کے کام آنے کی اہلیت سے بہرہ ور ہوں انہیں چاہیے کہ وہ وقف عارضی کریں اور زیادہ سے زیادہ وہاں جا کر ذاتی تعلق قائم کریں۔ایک زمانے میں امیر صاحب کراچی نے اس طرف توجہ دی تھی تو ہر طبقہ زندگی کے بعض واقفین وہاں پہنچنے شروع ہوئے۔وہاں سے جو چٹھیاں آتی تھیں ان سے معلوم ہوتا تھا کہ غیر معمولی فائدہ پہنچ رہا ہے۔مثلاً کوئی فوجی ریٹائر ڈ ہیں وہ وہاں گئے اور وہاں پتہ لگا کہ بعض فوجی بلا وجہ ان لوگوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ایک ہی پیشے سے تعلق رکھنے والوں کو با ہم ایک دوسرے کی شرم ہوتی ہے وہ ان سے ملے ان سے جا کر رابطہ قائم کیا تو پتہ لگا کہ بعض غلط فہمیوں کی بناء پر بلا وجہ انہیں ظلم کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ہمارے ایسے آدمیوں کی مساعی سے ان کیلئے سہولتیں پیدا ہوگئیں اس علاقے میں اسکا بڑا رعب پڑا۔لوگوں نے محسوس کیا کہ اللہ کے فضل سے جماعت احمد یہ بہت بااثر ہے ان کے بڑے بڑے افسر بھی خدمت کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور منکسر المزاج ہیں۔وہ ان کے ساتھ مل کر ان کے برتنوں میں کھاتے پیتے تھے۔اس کا بھی ان پر بڑا اثر پڑتا تھا۔کئی حکومت کے افسر اور غیر افسر اور اسی طرح بڑے بڑے چوٹی کے ڈاکٹر جب وہاں گئے تو اس علاقے میں زندگی کی ایک نئی روح پیدا ہوگئی۔اب پھر اس طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔سندھی احمدی زمیندار اپنے علاقے میں آنے والے پسماندہ قوموں کے ہندوؤں سے حسن سلوک کریں۔افسوس ہے کہ اس پہلو سے سندھ کے اکثر علاقوں میں شعور بیدار نہیں ہوا اور بجائے اس کے کہ ایسے موقع سے فائدہ اٹھا کر ان لوگوں کے دل جیتے جائیں ، ان سے حسن سلوک کیا جائے ، تالیف قلب کے نمونے دکھائے جائیں، وہی عمومی رواج جو زمینداروں میں چلتا ہے وہ احمدی زمینداروں میں بھی جاری ہے۔مگر اتنا زیادہ سخت نہیں ہے، جان بوجھ کر کسی کا پیسہ دبانے کی روح نہیں ہے لیکن جہاں بس چلتا ہے ان سے بیگار ضرور لے لی جاتی ہے۔جہاں بس چلے کچھ نا انصافی کی طرف میلان پایا جاتا ہے۔غریب قومیں ہیں آگے سے کچھ کر نہیں سکتیں اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی فرق نہیں پڑتا جب سارے معاشرے میں اس سے استفادہ کیا جارہا ہے تو کبھی کبھار ہم بھی