خطبات وقف جدید — Page 293
293 حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے عیسائیوں کی طاقت کو وہاں سے توڑنا ہے، انکی کوششوں کو ناکام بنانا ہے بلکہ اسلام کی ترقی کی رفتار کو پہلے سے زیادہ تیز کرنا ہے۔یہ وہ مقاصد ہیں جن کے آئندہ چند سالوں کے اندر اندر حصول کو میں وقف جدید کے لئے بطور ٹارگٹ متعین کرتا ہوں۔اس ضمن میں ایک نائب ناظم وقف جدید کو ربوہ کی بجائے ان علاقوں میں منتقل کر دیا گیا۔وہ مستقلاً وہیں رہ کر اپنا اڈا جمائیں گے اور وہیں بیٹھ کے کام کریں گے۔ان کو ہدایت دے دی گئی ہے کہ چھوٹے چھوٹے مدر سے قائم کریں، چھوٹے چھوٹے شفا خانے قائم کریں، دعا کے ساتھ جب وہ کوشش بھی کریں تو عیسائیوں کے بڑے شفا خانے بھی ان چھوٹے شفا خانوں کے مقابل پر نا کام ہو جائیں گے۔انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ ایلو پیتھک کی توفیق نہیں تو ہومیو پیتھک علاج شروع کر دیں۔پہلے بھی اس علاقے میں یہ طریق علاج کافی حد تک متعارف ہے۔ہم نے جب شروع میں کام کیا تو شفا خانے تو کھول نہیں سکتے تھے اس لئے معلمین کو ہومیو پیتھک سکھا کر اور کچھ نسخے رٹا کر جو روز مرہ کے استعمال میں آچکے تھے ہم نے ان کو بھیج دیا کہ اسی سے علاج شروع کرو۔اور اللہ تعالیٰ نے انکے کام میں برکت ڈالی اور انکی علاقے میں اچھی خاصی شہرت ہوگئی۔پھر بعض ذہین معلمین نے نئے نئے تجربوں سے خود اپنے نسخے بھی ایجاد کئے بعض بیماریوں کے علاج کے سلسلہ میں تو سارے تھر میں احمدی ڈاکٹر مشہور ہو گئے تھے۔جب کوئی خاص بیماری ایسی ہوتی تھی تو وہ لوگ دُور دُور کے علاقے سے سو سو میل کا سفر کر کے بھی احمدی ڈاکٹر کی تلاش میں پہنچا کرتے تھے۔مثال کے طور پر بیماری ہے جو دوسری جگہوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن وہاں خاص طور پر پائی جاتی ہے کہ ایک بار یک سا کیڑا پاؤں میں داخل ہو جاتا ہے اور وہ بڑھتارہتا ہے اور سینکڑوں گز تک وہ بڑھ جاتا ہے اور پکڑ کر اس کو نکالیں تو ٹوٹ جاتا ہے اور پھر بڑھنا شروع ہوجاتا ہے بظاہر اس کا کوئی علاج نہیں ایلو پیتھک علاج تو ہوں گے لیکن اس علاقے تک تو بہر حال وہ علاج نہیں پہنچے تھے۔نہایت ہی خوفناک بیماری ہے جس سے مریض بڑی تکلیف کے ساتھ مرتا ہے۔اور ہمارے ایک نو مسلم ڈاکٹر نثار احمد نے اپنے طور پر ہی ایک ہومیو پیتھک دوا سلیشیا دینی شروع کر دی۔اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ سلیشیا کھانے سے وہ کیڑا سارے کا سارا اندر ہی پکھل جاتا تھا۔سارے علاقے میں شور پڑ گیا کہ احمدی ڈاکٹر کے پاس اس مرض کا علاج ہے۔چنانچہ دور دور سے لوگ آنے شروع ہو گئے۔غریبانہ علاج ہے۔اب اس علاج کی مزید سہولت کو وہاں پھیلا دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مزید برکتیں ڈالے گا۔انشاء اللہ۔غریبانہ علاج کی بحث نہیں ہے۔بحث یہ ہے کہ شافی مطلق خدا کس کے ساتھ ہے۔اگر وہ بڑے بڑے شفاخانوں کو چھوڑ کر چھوٹی چھوٹی جھونپڑیوں میں آجائے تو شفا بھی ان جھونپڑیوں کی طرف منتقل ہو جائے