خطبات وقف جدید — Page 292
292 حضرت خلیفة المسیح الرابع کریں تو یہ ممکن ہے کہ سارے کا سارا روپیہ ضائع ہو جائے۔ایک پیسہ بھی واپس نہ آئے لیکن اس ہندو پسماندہ علاقے میں آج تک وقف جدید کا ایک پیسہ بھی ضائع نہیں ہوا۔بڑی دیانت داری کے ساتھ وہ واپس کرتے رہے یہاں تک کہ ابھی پچھلے دو سال کی بات ہے باوجود اسکے کہ ان لوگوں پر حکومت کا شدید دباؤ تھا اور علماء کی طرف سے انہیں ترغیب دی جارہی تھی کہ تم احمدیت سے پھر کر اپنے مذہب میں واپس چلے جاؤ یعنی پھر مشرک بن جاؤ ، رسول اکرم ﷺ کی صداقت اور اللہ کی توحید کے گن گانے چھوڑ دو اور از سر نو بتوں کی پرستش شروع کر دو، تمہارا مشرک بن جانا ہمارے لئے زیادہ قابل قبول ہے بہ نسبت اسکے کہ تم احمدی مسلمان کہلاؤ۔اسلام سے منحرف کرنے کے معاملے میں ان کو ہرقسم کی مدددی جاتی تھی ان سے کہا جاتا تھا کہ اگر وہ احمدیوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہیں تو پوری طرح ان کو ہر قسم کی اعانت حاصل ہوگی۔مگر ایسے زمانے میں بھی ان کو جور تم بیج کے طور پر دی گئی وہ ساری کی ساری انہوں نے واپس کر دی۔یہ وہ قوم ہے جس میں خدا تعالیٰ فضل کے ساتھ اور اس پر فضل کرتے ہوئے وقف جدید نے کام شروع کیا اور عیسائیوں کے پاؤں وہاں سے اکھیڑے کسی پیسے کے زور پر نہیں بلکہ دلائل کے زور پر۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا علم کلام اتنا مضبوط ہے، اتنا قوی ہے کہ اس کے سامنے عیسائی کے پاؤں ٹھہر ہی نہیں سکتے۔بالکل تھوڑی تعلیم والے معلمین جب واقعات لکھا کرتے تھے تو حیرت ہوتی تھی کہ اللہ تعالیٰ کس طرح ان کو جواب سمجھاتا ہے۔عیسائی پادریوں کی بڑی بڑی مجالس لگی ہوتی تھیں اور وہاں ایک معلم اٹھ کر سوال شروع کر دیتا تھا اور کچھ دیر کے بعد وہ اپنی صف لپیٹ کر وہاں سے غائب ہو جایا کرتے تھے وہاں یہ چرچا عام ہو گیا کہ یہ عیسائیوں کے پاؤں نہیں جمنے دیتے۔واقعہ کچھ عرصہ کے بعد وہاں سے عیسائیت کی تبلیغ ختم ہوگئی۔لیکن اب کچھ عرصہ سے بدلے ہوئے ماحول سے فائدہ اٹھا کر یہ سمجھتے ہوئے کہ حکومت کی ساری طاقت اور علماء کی ساری طاقت احمدیوں کے مقابل پر عیسائیوں کے ساتھ ہوگی انہوں نے دوبارہ وہاں پر پرزے نکالنے شروع کئے ہیں۔سکول جاری کئے ہیں، شفا خانے کھولے ہیں، دوبارہ امداد دینی شروع کی ہے جہاں تک میں نے تخمینہ لگایا ہے کر وڑ ہا روپیہ اس علاقے میں خرچ کر کے ان کو عیسائی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس لئے جوابی کارروائی کے طور پر جماعت احمد یہ بھی کم سے کم اتنی مؤثر کاروائی کرے گی کہ وہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہوں لیکن یہ کم سے کم کا رروائی ہے۔مومن کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ جب مخالفانہ کوشش شروع ہو تو صرف اس کوشش کو نا کام نہیں بنانا بلکہ ترقی کی رفتار کو پہلے سے کئی گنا تیز کر کے دکھانا ہے تا کہ ایسی کوشش کرنے والوں کی ہمتیں ٹوٹ جائیں ان کو کبھی و ہم بھی نہ آئے کہ الہی جماعتوں پر ہاتھ ڈال کر ہم کسی طرح کی بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔لہذا نہ صرف یہ کہ ہم