خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 290 of 682

خطبات وقف جدید — Page 290

290 حضرت خلیفہ مسیح الرابع گیا ہے۔سال پر وہ عمداً اس لئے شمار نہیں کرتے کہ اس سے زیادہ نظر آئے گا۔ساٹھ روپے سوپر سال میں تو بہت بڑی رقم نظر آتی ہے پانچ روپے مہینہ چھ روپے مہینہ دس روپے مہینہ اسطرح وہ سود چلتا ہے اور سود پر دیا ہوا جو بیج ہے اگر وہ کاشت کر لیا جائے اور پھر وقت پر بارش نہ ہو تو سارا سال پانچ روپے مہینہ وہ سود بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور اگلی فصل کیلئے بعض دفعہ ان کو دوبارہ قرض لینا پڑتا ہے اور اس دوران مہاجن سے پھر اور لے کر کھاتے بھی ہیں۔ان سے میں نے براہ راست سوال کیا تو پتہ چلا کہ رفتہ رفتہ چند سالوں کے اندر یہ کیفیت ہوگئی کہ بعض علاقوں میں آئندہ دس دس سال کی فصلوں کی آمد ان پر قرض ہے اور کسی طور پر اس چکر سے انکے نکلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یعنی مزارعت کی جو بدترین اور ذلیل ترین قسم ایک انسان سوچ سکتا ہے وہ وہاں رائج تھی اور ابھی تک رائج ہے۔زمیندار جب اپنی زمین مزارعت پر کسی کو دیتا ہے تو زمین محنت کرنے والے کی نہیں ہوتی زمین اسکی ہوتی ہے اور محنت کرنے والا اور ہوتا ہے اور فصل کو دونوں نصف نصف یا جس طرح بھی طے ہو آپس میں بانٹتے ہیں۔مگر یہاں زمین محنت کرنے والے کی ہے مزارعت کا حصہ بٹانے والے کی نہیں۔محنت بھی اسکی ہے زمین بھی اس کی ہے اسکے باوجود اسکی ساری فصل غیر کی ہے اور اس فصل میں سے وہ زیادہ قیمت کے حساب سے سود پر خود اپنی ہی ہوئی ہوئی فصل کا پھل اس سے منت کر کے مانگتا ہے اور پھر اسی پر وہ گزارہ کرتا ہے۔اگر یہ لوگ مزدوری کیلئے سندھ کے علاقوں میں نہ جاتے تو یہ صورتحال بہت ہی زیادہ خوفناک ہو جاتی۔اسلئے جب یہ مزدوری کیلئے سندھ کے علاقے میں جاتے ہیں تو وہاں سے کچھ نہ کچھ کما کر لے آتے ہیں جس سے ان کی بسر اوقات چلتی رہتی ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے وہاں جا کر ان کا زیادہ تر مسلمان زمینداروں سے واسطہ پڑتا ہے اور بسا اوقات انہیں وہاں بھی الا ماشاء اللہ اکثر زمینداروں کے ظلم کا نشانہ بنا پڑتا ہے۔وہاں سکول نہیں ہیں کوئی شفا خانے نہیں ہیں سوائے چند ایک قصبات کے جہاں ملتے ہیں اس لئے پسماندگی میں جہالت کا بھی حصہ ہے اور صحت کی خرابی کا بھی لیکن اس کے باوجود یہ لوگ محنتی ہیں۔بڑی کثرت کے ساتھ ان میں سل کی بیماری پائی جاتی ہے اور دانتوں کی بیماری بھی عام ہے۔کوئی اور قوم ہوتی تو بالکل ہی ہاتھ پاؤں توڑ کے بیٹھ جاتی لیکن یہ بڑی ہمت والے لوگ ہیں۔ان تکلیفوں کے باوجود بہت محنتی قوم ہیں سندھ میں جو عموماً زمینداروں میں محنت کی عادت ہے یہ اس سے کئی گنا زیادہ محنت کر سکتے ہیں اور ہیں بھی دیانت دار۔لین دین میں صاف ہیں یہ ایک اور خوبی ہے جو ان میں حیرت انگیز طور پر پائی جاتی ہے۔ان حالات کو دیکھ کر عیسائی قوموں کیلئے تو یہ تر لقمہ تھے چنانچہ پیشتر اس کے کہ وقف جدید وہاں کام شروع کرتی عیسائیوں نے وہاں جال پھیلا دیئے تھے یہ وہ زمانہ تھا جبکہ پی۔ایل 480 کی وجہ سے بہت سی رقم عیسائی مشنریوں کو