خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 289 of 682

خطبات وقف جدید — Page 289

289 حضرت خلیفہ امسیح الرابع طرح سے بدسلوکی ہوئی ایک تو یہ کہ جب یہ لوگ مزدوری کے لئے زمینداروں کے پاس جاتے تھے تو انکے ساتھ اچھا معاملہ نہیں ہوتا تھا اور جہاں بھی بس چلا ان کی مزدوریاں دبائی گئیں۔جہاں بھی کسی کی پیش گئی ان کے اوپر بعض جھوٹے مقدمے بھی بنائے گئے ، پولیس سے سزائیں بھی دلوائی گئیں اور حتی الامکان بیگار لینے کی کوشش بھی کی گئی۔اس لئے ان کے دل میں مسلمانوں کے خلاف ایک منتظر پایا جاتا تھا۔دوسرے ہندؤوں سے بڑھکر مسلمان ان سے چھوت چھات کرتے تھے وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کسی اچھوت کو یعنی ان اقوام کے کسی انسان کو اپنے برابر بٹھائیں یا ان برتنوں میں یہ بھی پانی پئیں جن میں وہ پانی پیتے تھے یا اپنے برتنوں میں انکو پانی دیں یعنی پوری طرح چھوت چھات کا سلوک ان سے کیا جار ہا تھا۔اس لئے جب ہم نے وہاں معلمین بھجوائے تو یہ ہندو لوگ اسلام سے بہت ہی بد کتے تھے اسلام سے گھبراتے تھے اور نتیجہ کئی سال کی کوششوں کے باوجود کوئی ایک بھی پھل نہیں لگا۔بہر حال حضرت مصلح موعودؓ کی طرف سے بار بار تاکید تھی کہ اس کام کو چھوڑنا نہیں۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور بالآخر انکا یہ جمود ٹوٹا اور نفرت دُور ہوئی۔جب انکو محبت اور پیار کے ساتھ اسلام کی تعلیم دی گئی تو توجہ پیدا ہونی شروع ہوئی اور تیزی سے اسلام پھیلنے لگا اور پھر انہیں میں سے واقفین بھی پیدا ہوئے جنہوں نے بہت جلدی جلدی اخلاق میں ترقی کی اور اپنے آپ کو وقف کیا۔اس کے علاوہ ایک اور بڑی اہم مشکل یہ تھی کہ ان قوموں کے خصوصی حالات کی وجہ سے عیسائی ان کو اپنا شکار سمجھتے تھے۔وہ خصوصی حالات اپنی جگہ بہت ہی درد ناک ہیں۔ان کی پسماندگی میں ان حالات نے اور زیادہ دُکھوں کا اضافہ کر دیا تھا۔اس ہندو علاقے میں صرف پسماندہ قومیں ہی نہیں بلکہ ہندو مہاجن بھی آباد ہیں۔بعض قصبات میں سو فیصدی ہندوؤں کی آبادی ہے ایک بھی مسلمان قصبے کے اندر موجود نہیں اور ان کی ساری معیشت اور ساری اقتصادیات مہاجن کے ہاتھ میں ہیں۔چنانچہ ان کی غربت سے استفادہ کرتے ہوئے اور موسمی مصائب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رفتہ رفتہ ہندومہاجن نے ان کی ساری زمینیں گروی رکھ لیں۔اور جب ایک موقع پر وہاں سے خود جائزہ لینے کی توفیق ملی تو اس وقت یہ کوائف سامنے آئے کہ سارے علاقے میں سو فیصدی زمین تو ان پسماندہ لوگوں کی ہے لیکن عملاً سو فیصدی فصل ہندو مہاجن کی ہے۔طریق کار یہ جاری تھا کہ جب موسم مثلاً خراب ہو۔بارش وقت پر نہ ہو تو اگلے سال کیلئے انکے پاس پیج کے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے مہاجن ستے زمانے کا بیج لے کر سنبھال کے رکھ لیتا تھا اور اول تو زیادہ قیمت پر انکو دیتا تھا اور پھر سود پر دیتا تھا وہاں کا جوسود ہے وہ بھی عام سود سے مختلف ہے۔وہ مہینے کے حساب سے ہے مثلاً 5 روپے مہینہ سوروپے پر اور یہ سود بھی رعایت سمجھی جاتی ہے یعنی بڑی نرمی کا سلوک کیا