خطبات وقف جدید — Page 288
288 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو خدا نے مصلح موعود کا وعدہ فرمایا تھا یہ تحر یک وقف جدید بھی اسی وعدے کا ایک حصہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے بڑی گہری بصیرت حضرت مصلح موعود کو عطا فرمائی تھی نیز وقتاً فوقتاً اللہ تعالیٰ ایسے بنیادی اقدامات کرنے کی طرف بھی توجہ دلاتا رہا جو جماعت کی اصلاح میں نمایاں سنگ میل کی حیثیت رکھتے تھے اور ہمیشہ سنگ میل کی حیثیت رکھیں گے۔چنانچہ وقف جدید کی تحریک ان کو ائف اور اعداد و شمار کوملحوظ رکھتے ہوئے اپنے لئے خود ہی لائحہ عمل ڈھالتی رہی اور متعدد ایسے طریق اختیار کئے گئے جن سے دیہی جماعتوں کی حالت سنبھلنی شروع ہو، ان کو اپنے فرائض کا احساس ہو، اپنے مقام کا احساس ہو اور جس حد تک ممکن ہو وہ دنیا کے سامنے ایک اچھا نمونہ پیش کر سکیں۔دیہاتی جماعتوں میں اگر چہ علم کی کمی کی وجہ سے تربیتی لحاظ سے کمزوری بھی جلدی پیدا ہو جاتی ہے لیکن عام طور پر انکے اخلاص کا معیار اور اطاعت کا معیار بلند ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ کمزوری جتنی جلدی پیدا ہوتی ہے اتنی جلدی دور کرنے کیلئے بھی وہ تیار ہو جاتے ہیں۔چنانچہ اس تحریک کے نتیجے میں عملاً یہ بات سامنے آئی کہ بعض جماعتوں میں جہاں نمازی دس فیصد بھی نہیں تھے وہاں چند مہینے کی کوششوں میں خدا کے فضل سے تمہیں چالیس فیصد تک لوگ تہجد گزار پیدا ہونے شروع ہو گئے۔بچے اور بوڑھے اور عورتیں سبھی نے نیک کاموں میں حیرت انگیز تعاون کا نمونہ دکھایا۔معلمین کی کمی کی وجہ سے پھر ہمیں انہیں بار بار مختلف اضلاع میں بدل بدل کر مقرر کرنا پڑا۔روپے کی شروع میں بہت کمی محسوس ہوتی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس میں بھی برکت ڈالی اور رفتہ رفتہ یہ تحریک اس پہلو سے خوب اچھی طرح اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگئی۔جہاں تک ہندؤوں میں تبلیغ کا تعلق ہے شروع کے چند سالوں میں باوجود کوشش کے کوئی پھل نہیں ملا۔خصوصاً وہ علاقے جہاں ہندو قو میں زیادہ آباد ہیں وہاں کئی قسم کے ایسے مسائل تھے جن سے نبٹنا ہمارے بس کی بات نہیں تھی اور پھر اجنبیت بھی بہت تھی نیز ان پسماندہ اقوام میں جہاں زیادہ تر ہندو ملتے ہیں اسلام سے دُوری اس وجہ سے بھی پائی جاتی تھی کہ ان علاقوں کے مسلمانوں کا سلوک ان سے اچھا نہیں تھا۔مثلاً زیادہ تر سندھ میں یہ پسماندہ قومیں آباد ہیں جن کی بھاری اکثریت ہندو ہے۔یہ مزدور پیشہ لوگ ہیں اور سندھ کے مختلف علاقوں میں موسم کے لحاظ سے آتے اور جاتے رہتے ہیں۔ان کا اصل بنیادی ٹھکانہ تھر ہے یعنی وہ ریگستانی علاقہ جو سندھ اور ہندوستان کے درمیان واقع ہے۔کہیں بارڈر سے پچاس میل تک تھر کا ریگستانی علاقہ اندر آ گیا ہے اور کہیں کم ہو گیا ہے بہر حال ایک بہت چوڑی Belt ( بیلٹ ) ہے جو پاکستان کے زرخیر علاقے کو ہندوستان کے بارڈر سے الگ کرتی ہے۔اور اس ساری Belt میں اگر چہ ایک حصہ میں مسلمان بھی آباد ہیں مگر بھاری اکثریت ان پسماندہ ہندو اقوام کی ہے۔انکے ساتھ دو