خطبات وقف جدید — Page 287
287 حضرت خلیفہ امسیح الرابع خطبه جمعه فرمودہ 27 دسمبر 1985 ء بیت الفضل لندن تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔آج سے اٹھائیس برس پہلے 1957 ء میں حضرت فضل عمر نے وقف جدید انجمن احمدیہ کی بنیاد ڈالی۔یہ تحریک بنیادی طور پر دو اغراض سے جاری کی گئی تھی۔پہلی غرض کا تعلق دیہاتی جماعتوں کی تعلیم و تربیت سے تھا۔پہلی بات یہ تھی کہ پاکستان کے دیہاتی علاقوں میں چونکہ یہ ممکن نہیں تھا ہر جگہ ایک مربی کو تعینات کیا جائے اس لئے وہاں خصوصانئی نسلوں میں تربیت کی کمزوری کے آثار ظاہر ہونے شروع ہوئے نہ صرف نئی نسلوں میں بلکہ تقسیم ہند کے بعد جو لوگ جوان تھے وہ بھی کئی قسم کی معاشرتی خرابیوں کا شکار ہوئے اور بنیادی طور پر دین کے مبادیات سے بھی بعض صورتوں میں وہ غافل ہو گئے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود نے بشدت یہ محسوس کیا کہ جب تک ایسی کوئی تحریک نہ جاری کی جائے جس کا تعلق خالصتا دیہاتی تربیت سے ہو اس وقت تک ہم دیہاتی علاقوں میں احمدیت کے مستقبل کے متعلق بے فکر نہیں ہو سکتے۔چنانچہ حضور نے اس تحریک یعنی تحریک وقف جدید کا آغاز فرمایا۔حضور نے اولین ممبران وقف جدید میں خاکسار کو بھی مقرر فرمایا حضور ان دنوں بیمار تھے لیکن بیماری کے باوجود ذہن ہر وقت اسلام کی ترقیات کے متعلق سوچتا رہتا تھا۔ابتدائی نصیحتیں جو مجھے کیں ان میں ایک تو یہی دیہاتی تربیت کی طرف توجہ دینے کے متعلق ہدایت تھی اور دوسرے ہندؤوں میں خاص طور پر تبلیغ کرنے کی تاکید کی گئی تھی۔تو بہر حال پہلا مقصد دیہاتی تربیت کا تھا اور دوسرا مقصد پاکستان میں بسنے والے ہندؤوں کو مسلمان بنانا تھا۔جب آغاز میں ہی میں نے دیہاتی تربیت کا جائزہ لیا تو ابتدائی جائزہ کے کوائف غیر تسلی بخش تھے بعض صورتوں میں تو نہایت ہی خوفناک کوائف سامنے آئے۔مختلف اضلاع کے بعض دیہات کو نمونہ بنا کر وہاں معلمین کو اور بعض دفعہ غیر معلمین کو جو اپنے آپ کو اس کام کیلئے پیش کرتے تھے بھجوا کر با قاعدہ ایک فارم بھروایا گیا تو اس سے معلوم ہوا کہ بعض جگہ باجماعت نماز پڑھنے والوں کی تعداد ایسی گرگئی ہے کہ پوری جماعت میں جتنے باجماعت نمازی ہونے چاہئیں اس کے مقابل پر دس فیصدی بھی نہیں رہے۔بعض دیہات میں بہت بڑی تعداد میں بچے ایسے نظر آئے جن کو نماز ( بلا ترجمہ ) بھی نہیں آتی تھی اور تلفظ کی غلطیاں تو اتنی عام تھیں کہ وہ کلمہ بھی صحیح تلفظ کے ساتھ ادا نہیں کر سکتے تھے۔الغرض بہت ہی خوفناک اعداد و شمار سامنے آئے اور اس وقت یہ محسوس