خطبات وقف جدید — Page 285
285 حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمت سے جو تم پر ہے میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو۔“ تقویٰ من اللہ کا کیسا اچھا نقشہ کھینچا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رحمت جو تم پر ہے اسکی وجہ سے تم سلا بیعت میں داخل ہو اور اسکی وجہ سے تمہیں یہ قربانیوں کی توفیق مل رہی ہے۔پھر فرمایا: ”اور اپنی زندگی ، اپنا آرام اپنا مال اس راہ میں فدا کر رہے ہوا گر چہ میں جانتا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں تم اسے قبول کرنا اپنی سعادت سمجھو گے اور جہاں تک تمہاری طاقت ہے دریغ نہیں کرو گے لیکن میں اس خدمت کیلئے معین طور پر اپنی زبان سے تم پر کچھ فرض نہیں کر سکتا تا کہ تمہاری خدمتیں نہ میرے کہنے کی مجبوری سے بلکہ اپنی خوشی سے ہوں میرا دوست کون ہے اور میرا عزیز کون ہے؟ وہی جو مجھے پہچانتا ہے مجھےکون پہچانتا ہے صرف وہی جو مجھ پر یقین رکھتا ہے کہ میں بھیجا گیا ہوں اور مجھے اس طرح قبول کرتا ہے جس طرح وہ لوگ قبول کیے جاتے ہیں جو بھیجے گئے ہوں دنیا مجھے قبول نہیں کر سکتی کیونکہ میں دنیا میں سے نہیں ہوں مگر جن کی فطرت کو اس عالم کا حصہ دیا گیا ہے وہ مجھے قبول کرتے ہیں اور کریں گے۔جو مجھے چھوڑتا ہے وہ اس کو چھوڑتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔اور جو مجھ سے پیوند کرتا ہے وہ اس سے کرتا ہے جس کی طرف سے میں آیا ہوں۔میرے ہاتھ میں ایک چراغ ہے جو شخص میرے پاس آتا ہے ضرور وہ اس روشنی سے حصہ لے گا مگر جو شخص و ہم اور بدگمانی سے دور بھاگتا ہے وہ ظلمت میں ڈال دیا جائے گا۔اس زمانہ کا حصن حصین میں ہوں۔جو مجھ میں داخل ہوتا ہے۔وہ چوروں اور قزاقوں اور درندوں سے اپنی جان بچائے گا مگر جو شخص میری دیواروں سے دور رہنا چاہتا ہے ہر طرف سے اس کو موت در پیش ہے! اور اسکی لاش بھی سلامت نہیں رہے گی“۔پھر آپ فرماتے ہیں: ( فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳ صفه ۳۴۰) ”اے مسلمانو! جو اولوالعزم مومنوں کے آثار باقیہ ہو اور نیک لوگوں کی ذریت ہو انکار اور بدظنی کی طرف جلدی نہ کرو اور اس خوفناک وبا سے ڈرو جو تمہارے اردگرد پھیل رہی ہے۔(فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۱) 66 اس سے بھی بالکل یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آج اہل پاکستان کو مخاطب کر کے ان کے شرفاء کو