خطبات وقف جدید — Page 284
284 حضرت خلیفة المسیح الرابع انہیں مل گیا اور خدا تعالی نے انہیں جماعت احمدیہ کے لئے اپنے قرب کا نشان دکھایا لیکن اس بچہ کے والد صاحب کا ( جو کسی اور جگہ باہر رہتے تھے ) اس جگہ سے اطمینان اٹھ گیا اور انہوں نے وہاں سے اپنے گھر والوں کو یہ آرڈر دیا کہ فورا یہ گھر خالی کر دو اور میرے پاس آجاؤ ، اب میں تمہیں اس گھر میں نہیں چھوڑ سکتا۔لہذا اس بچہ کی امی اپنے گھر کی چابی لے کر ان کے گھر آئی اور کہا کہ یہ مکان آپ نے رکھنا ہے تو لے لیں۔وہ مکان بہت عمدہ اور کافی کھلا تھا۔پھر ایک اور عجیب واقعہ یہ ہوا کہ جھونپڑے والی بات کے بعد انکی چھوٹی سی بچی جو تو تلی زبان میں بولتی ہے اس نے دعا کی کہ اے خدا مجھے ایسا مکان عطا فرما جس کے کو ٹھے پر صحن ہوں اور صحن بھی اس طرح کہ دو نیچے اور دواو پر ہوں۔کچھ اس قسم کا نقشہ بنا کر اسنے دعائیں شروع کر دیں۔وہ احمدی دوست کہتے ہیں کہ جب ہم اس گھر میں داخل ہوئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔اور میری بیوی اور میری تو خدا کے حضور جذبات تشکر اور حمد سے روتے روتے چیچنیں نکل گئیں کہ جن لفظوں میں ہماری بچی دعائیں مانگ رہی تھی بالکل اس نقشہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہمیں مکان عطا فر ما دیا۔پس جماعت احمد یہ تو خدا تعالیٰ کے فضلوں کے سائے تلے آگے بڑھنے والی جماعت ہے۔تم ایک جگہ ظلم کا سایہ ڈالتے ہو تو چاروں طرف اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ روشنی کر دیتا ہے تم ہمارے لئے ایک جگہ آگ بھڑکاتے ہو تو خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتیں ہر طرف ہمیں عطا ہونے لگتی ہیں، تمہاری تلواروں کے سائے تلے بھی ہمارے لئے تسکین قلب رکھ دی گئی ہے۔تم کون ہوتے ہو ہمیں مٹانے والے تمہاری حیثیت ہی کیا ہے۔خدا تعالیٰ کے کاروبار تو کبھی بھی بندوں سے رکے نہیں اور نہ رک سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جماعت احمدیہ کو مخاطب کر کے ( جماعت کو مبارک ہو کہ آج جماعت اس دور میں داخل ہو رہی ہے کہ واقعی ان الفاظ کو سن کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو دیکھ کر آپ کے متعلق ہی یہ الفاظ فرمائے ہیں ) فرماتے ہیں کہ: ”اے میرے عزیز و! میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو! جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے جو تم پر ہے میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو اور اپنی زندگی اپنا آرام، اپنا 66 مال اس راہ میں فدا کر رہے ہو۔کیسا سچا اور پاکیزہ کلام ہے اور کیسا محبت میں ڈوبا ہوا ہے اور آج جماعت احمدیہ کے افراد پر کس شان کے ساتھ یہ پورا ہورہا ہے کہ ”اے میرے عزیزو! میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو! جو خدا تعالیٰ کی