خطبات وقف جدید — Page 283
283 حضرت خلیفة المسح الرابع میں نے بہت منتیں کیں سمجھایا مگر وہ کسی طرح نہیں مانا اور جب ہم نے مکان تلاش کئے تو کوئی مکان نہیں ملتا تھا ایک دن میں نے اپنے بچوں کو اکٹھا کیا اور ان سے کہا کہ دیکھو! یہ لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ ” تم احمدیت کو چھوڑ دو تو ہم تمہیں اچھے مکان دیں گے تمہیں محل عطا کریں گے اور اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو پھر جھونپڑیوں میں جا کر رہو تمہارے لئے گھروں میں کوئی جگہ نہیں۔وہ احمدی دوست کہتے ہیں کہ میں نے بڑی سنجیدگی سے بچوں کو مخاطب کر کے یہ سوال کیا کہ اب میں تم پر فیصلہ چھوڑتا ہوں کہ احمدیت کو چھوڑ کر اچھے حل چاہئیں یا تم میرے اور اپنی اماں کے ساتھ جھونپڑیوں میں رہنا پسند کرو گے۔وہ کہتے ہیں کہ ابھی منہ سے بات ختم نہیں ہوئی تھی کہ بچے چیخ اٹھے کہ ہم جھونپڑیوں میں رہیں گے ، خدا کی قسم ہم جھونپڑیوں میں رہیں گے ، ہم احمدیت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔وہ احمدی دوست کہتے ہیں کہ اس وقت خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ایسا یقین پیدا کر دیا کہ میں انکی ماں کے پاس گیا اور کہا کہ میں تمہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ تمہارا مکان کے بارے میں سارا فکر ختم ہو گیا۔آج ان بچوں کے دلوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جسے آسمان نے قبول کر لیا ہے اور تم دیکھنا کہ خدا انہیں کبھی جھونپڑیوں میں نہیں جانے دے گا۔اسکے بعد ایک اور عجیب واقعہ ہوا جو اپنی ذات میں خود ایک نشان ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ پھر مکان کا حاصل ہونا کوئی حادثاتی چیز نہیں تھی بلکہ خالصہ اللہ تعالیٰ کے تصرف کے نتیجہ میں ایک اور نشان پر بناء کرتے ہوئے انہیں وہ مکان ملا۔وہ کہتے ہیں کہ ایک دو دن کے اندر ہمارے ہمسائیوں کا ایک بچہ اغوا ہو گیا اور اسکی ماں کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی وہ ہمارے گھر آئی اور خوب روئی اور گریہ وزاری کی ، وہ بڑی سخت پریشان تھی چنانچہ وہ احمدی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ میں تمہیں ایک تجربہ بتاتا ہوں اور وہ یہ کہ ہمیں جب بھی مشکل پڑتی ہے تو ہم خلیفہ وقت کو دعا کیلئے خط لکھتے ہیں، خود بھی دعا کرتے ہیں اور وہاں سے بھی دعا کی امید رکھتے ہیں، تو بسا اوقات اللہ تعالیٰ ہمارے مشکل کام نکال دیتا ہے۔اگر چہ تمہیں تو یقین نہیں ہے لیکن ایک دفعہ تجربہ کر کے دیکھ لو ، غم تو تمہارا ہے مگر منت میں کرتا ہوں اور مجھے تکلیف ہے۔وہ احمدی دوست کہتے ہیں کہ میں نے اس عورت سے اتنی سنجیدگی سے کہا کہ اس کے دل میں یقین پیدا ہو گیا اور اسنے کہا کہ ٹھیک ہے ابھی خط لکھو اور میں دستخط کرتی ہوں۔چنانچہ میں نے وہ خط لکھا اور اس نے دستخط کئے لیکن اس دن ڈاک نکل چکی تھی اسلئے وہ پوسٹ نہیں کر سکے۔دوسرے روز بارہ یا ایک بجے کے قریب انہوں نے خط ڈاک میں بجھوایا۔وہ احمدی دوست کہتے ہیں کہ مجھے یقین تھا کہ دعا تو اللہ تعالیٰ نے قبول کرنی ہے اسکے لئے ماضی کیا اور مستقبل کیا، خط اب چلا گیا ہے اسلئے ضرور خدا تعالیٰ اپنی رحمت کا کوئی نشان دکھائے گا۔چنانچہ ڈیڑھ گھنٹہ کے اندر اندر ان کے گھر سے فون پر اطلاع آئی کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے فلاں شہر سے بچہ مل گیا ہے۔اب اس کا نتیجہ دیکھیں کہ بچہ تو