خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 282 of 682

خطبات وقف جدید — Page 282

282 حضرت خلیفہ مسیح الرابع وہ کہتی ہیں کہ خواب نہیں تھی کوئی ایسی طاقت تھی جس نے میرے دل پر قبضہ کر لیا اور اس کے بعد تو ایک لمحہ کیلئے بھی نہ مجھ پر اداسی آئی نہ خوف پاس پھٹکا، میں تو مزے کی زندگی گزارتی رہی ہوں تم مجھے کس حال میں دیکھنا چاہتے تھے۔پس جس قوم کے مردوں کا یہ حال ہو اور خدا اس طرح انکے لئے رحمت کے نشان دکھا رہا ہو اور جن کے عورتوں کا یہ حال ہو اور خدا اس طرح ان کیلئے رحمت کے نشان دکھا رہا ہو ان کیلئے کو نسے نقصان کا سودا ہے اور بچوں کا حال بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا، ان میں بھی عجیب و غریب معصوم تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں جن میں نہ ماں باپ کا دخل ہے نہ میرا نہ آپ کا اور نہ کسی اور تنظیم کا محض خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کے دلوں پر تقویٰ برس رہا ہے اور خدا کی رضا نازل ہو رہی ہے۔ایک احمدی ماں نے اپنے بچوں کی کھیلوں کا قصہ سنایا جس سے مجھے بڑا لطف آیا اور میں نے کہا کہ دیکھو ہمارے بچوں کی کھیلیں بھی باقی سب بچوں سے مختلف ہوگئی ہیں۔وہ احمدی خاتون کہتی ہیں کہ ہمارے بچے کھیل رہے تھے اور انہوں نے جمعہ کے لئے کاروں کا ایک قافلہ بنایا ہوا تھا جس طرح قافلہ جایا کرتا تھا اور سارے متحد ہوکر کھڑے انتظار کر رہے تھے کہ کب جمعہ کے لئے خلیفہ وقت آئیں اور پھر آذان کی آواز بلند ہو۔انکی ماں کہتی ہیں کہ ان بچوں کے چہروں پر اتنا انہماک تھا اتنی سنجیدگی اور احترام تھا کہ میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے اور میں حیران تھی کہ اللہ نے میرے بچوں کو کیا کر دیا ہے۔پھر وہ احمدی خاتون کھتی ہیں کہ ایک دفعہ میری بیٹی ہمسائیوں کی بچیوں کے ساتھ گڑیوں سے کھیل رہی تھی۔اچانک بچی (جس کی عمر تین سال ہے ) کو کچھ خیال آیا اور اس نے دوسری بچیوں سے کہا کہ اب ٹھہر جاؤ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کے ابتلا دور کرے اور فتوحات نازل فرمائے اور ہمارا امام واپس آجائے۔اس چھوٹی سے بچی نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے تو سارے بچوں نے دعائیں شروع کر دیں۔احمدی خاتون کہتی ہیں کہ میں حیران تھی کہ اس گھر میں کیا واقعہ ہورہا ہے۔میں نے بچوں کو نہیں سکھایا نہ میرے خاوند نے سکھایا یہ تو آسمان سے ہی تربیت ہورہی ہے اور وہ کہتی ہیں کہ یہ دیکھ کر مجھ سے برداشت نہیں ہو سکا میں روتے روتے اپنے رب کے حضور سجدے میں گرگئی کہ اے اللہ تیرے کیسے فضلوں کی بارش ہو رہی ہے ہم میں کہاں طاقت تھی کہ ہم اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کرسکیں ، ان کے دلوں میں تو گھس گیا ہے ، ان کے سینوں میں تو بیٹھ گیا ہے اور تو اپنے فضل سے خود انکی تربیت کر رہا ہے۔علاوہ ازیں ایک احمدی بچے کا ایک عجیب واقعہ ہے اور اسکے ساتھ بھی رحمت کا ایک عجیب نشان وابستہ ہے۔ایک صاحب کہتے ہیں کہ مجھے محض احمدیت کی بناء پر گھر کے مالک نے نکلنے کا نوٹس دے دیا۔