خطبات وقف جدید — Page 268
268 حضرت خلیفہ المسح الرابع اقتباس از خطبه جمعه فرموده 2 نومبر 1984 صلى الله۔۔۔۔ایک دفعہ سندھ میں جہاں ہم ہندؤوں میں تبلیغ کرتے ہیں وہاں کا ایک واقعہ مجھے یاد آگیا۔ایک علاقے میں جہاں خدا کے فضل سے بکثرت ہندو مسلمان ہونے شروع ہوئے کلمہ پڑھنے لگے، شرک چھوڑا ، علما کو پتہ چلا تو انہیں بہت غصہ آیا انہوں نے کہا یہ احمدی ہوتے کون ہیں کہ ہندؤوں میں تبلیغ شروع کر دی ہے اور ہندؤوں کو کلمہ پڑھا رہے ہیں۔چنانچہ ایک جماعت اسلامی کے مولوی صاحب ایک گاؤں میں جا پہنچے جس کا نام پھولپورہ ہے اور وہاں کی آدھے سے زیادہ آبادی احمدی ہو چکی تھی اللہ کے فضل سے اور نمازیں پڑھنے لگ گئے تھے اور درود بھیجتے تھے آنحضور ﷺ پر اور بچے بھی کلمہ پڑھتے تھے نہایت ہی پیاری آواز میں۔تو مولوی صاحب وہاں پہنچے اور احمدیوں کے خلاف گندہ دینی شروع کر دی سٹیج لگایا اور اتنی گالیاں دیں کہ وہ حیران ہو کر تعجب سے دیکھتے رہے کہ ہوا کیا ہے مولوی صاحب کو ہم تو سمجھے تھے کہ اسلام کی باتیں بتائیں گے کچھ اپنے مذہب میں آنے کی دعوت دیں گے۔یہ تو ان کو گالیاں دے رہے ہیں چنانچہ گاؤں کا نمبر دار تھا وہ بھی ہندو ہی تھا وہ اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔اس نے کہا مولوی صاحب! پہلے میری ایک بات سن لیں اس کے بعد باقی باتیں۔بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب یہ لوگ یہاں آئے تھے ہمیں مسلمان بنانے کیلئے تو انہوں نے ہمیں بہت پیاری پیاری باتیں بتائی تھیں، اللہ کا ذکر کرتے تھے محبت سے اور ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے، خدا کے پیار کی باتیں کرتے تھے ، اپنے نبی کی پیار کی باتیں کرتے تھے اور کہتے تھے خدا کا کوئی شریک نہیں اور محمد ﷺ اس کا بندہ اور رسول ہے اور سب نبیوں سے افضل ہے اور پھر اسلام کے اخلاق کی باتیں کرتے تھے کہتے تھے سب بھائی بھائی ہیں ، کوئی دشمنی نہیں، کوئی نفرت نہیں۔تو ان باتوں نے ہمارے دل جیتنے شروع کئے۔اگر چہ میں ابھی تک مسلمان نہیں ہوا لیکن میرا گاؤں میری آنکھوں کے سامنے مسلمان ہورہا ہے اور میں نے کبھی نہیں روکا کسی کو کیونکہ کوئی ایک بھی ایسی بات نہیں جس پر مجھے اعتراض ہو اس لئے میں نے کوئی دخل نہیں دیا لیکن آج آپ ایک اسلام کا تصور لے کر آئے ہیں اور اس میں آپ گندی گالیاں دے رہے ہیں تو اگر سچائی کی یہی دلیل ہے تو اس نے کہا کہ میرالر کا میرے پاس ہے میں اس کا دوسری طرف سٹیج لگوا دیتا ہوں اور گالیوں میں اس سے مقابلہ آپ کر لیں لیکن شرط یہ ہے کہ اگر میرا بیٹا جیت گیا تو آپ پھر ہندو ہو جائیں اور اگر آپ جیت گئے تو میں اور میرا بیٹا مسلمان ہو جائیں صلى الله