خطبات وقف جدید — Page 253
253 حضرت خلیفہ امسیح الرابع تو یہی طریق جاری رہنا چاہیے۔اگر کام کے تقاضے اور کام کے کپڑے آپ کو نسبتا نرم پردہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں تو اسلام اس کی اجازت دیتا ہے بشرطیکہ آپ حیا کی چادر میں لپٹی ہوئی ہوں۔لیکن اس کے بعد روز مرہ کی زندگی میں یہی طریق اختیار کرنا درست نہیں ہے۔انگلستان اور امریکہ وغیرہ میں ہم نے دیکھا ہے مزدور بالکل اور کپڑے پہن کر کام پر جاتے ہیں اور جب واپس آتے ہیں تو صاف ستھرے،کوٹ پتلون پہنے اور نکٹائی لگائے باہر نکلتے ہیں اور پہچانے نہیں جاتے کہ یہ وہی لوگ ہیں اسلئے آپ بھی اپنے معاشرے میں اسی قسم کی مناسب حال تبدیلیاں پیدا کیا کریں۔پھر آپ پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔اسی طرح بڑی عمر کی عورتیں ہیں۔اگر وہ اس عمر سے تجاوز کر گئی ہیں جہاں نا پاک لوگوں کی گندی نظریں ان پر پڑیں تو قرآن کریم فرماتا ہے کہ ان پر کوئی حرف نہیں ہے اور نہ ہی کوئی حرج ہے۔ایسی عورتیں اگر عام شریفانہ طریق پر چادر لے لیں جو ہمارے ہاں رائج ہے خواہ چہرہ نہ بھی ڈھکا ہوا ہو ، تو یہ ان کے لئے جائز ہے۔کیونکہ جس چیز کی قرآن کریم اجازت دیتا ہے اس کو دنیا میں کون روک سکتا ہے۔اور قرآن کریم کے تقاضوں کو ہمیں بہر حال پورا کرنا چاہیے۔اگر سٹیج ٹکٹ کے معاملے میں ان پر بھی کسی قدر سختی ہو گئی ہو جس کی وجہ سے انکی دل آزاری ہوئی ہے تو انہیں حلم سے اور درگزر سے کام لینا چاہیے ویسے انتظام کی طرف سے عمداً ایسا نہیں ہوا۔لیکن آئندہ کے لئے جماعت کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ پردہ کے متعلق انفرادی طور پر ایسے فیصلوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ورنہ اس کا ناجائز استعمال ہوگا اور از خود لوگ بعض اجازتیں اپنے لئے لینی شروع کر دیں گے۔اگر اجازت کا غلط استعمال کریں گے تو پھر ہم اسی مصیبت میں مبتلا ہو جائیں گے جس مصیبت سے نکل کے آئے ہیں اس لئے اس قسم کی چیزیں جماعتی انتظام کے تحت ہونی چاہئیں جن خواتین کو جس قسم کے اسلامی پردے کی ضرورت ہے وہ اپنے انتظام کو بتائیں کہ میرے یہ حالات ہیں اور میرے متعلق قرآن کریم کا یہ حکم ہے اور میں اس کے مطابق عمل کر رہی ہوں۔پھر ا نتظام کو کوئی شکوہ نہیں ہوگا۔لیکن بچیاں خصوصاً ایسے طبقے کی بچیاں جو ناز و نعمت میں پلی ہوتی ہیں اور جن کے لئے خطرات زیادہ ہیں ان کے بارہ میں نظام جماعت کو اجازت دیتے وقت بہت احتیاط کرنی چاہیے۔پھر ایسی خواتین ہیں جن کو باہر تو نکلنا پڑتا ہے لیکن وہ سنگھار پٹار کر کے نکلتی ہیں اب کام کا سنگھار پٹار سے کیا تعلق ہے۔سنگھار پٹار ان کے اس فعل کو جھٹلا دیتا ہے کہ اگر تم فلاں کام کے سلسلے میں نرم پردہ کرنے پر مجبور ہو تو کم از کم پر دے کے جو دوسرے تقاضے ہیں ان کو تو پورا کرو۔پورے سنگھار پٹار اور زمینوں کے ساتھ باہر نکلو اور پھر کہو کہ اسلام ہمیں اجازت دیتا ہے کہ یہاں نسبتا نرم پردہ کر لیں ، یہ غلط بات ہے،