خطبات وقف جدید — Page 245
245 حضرت خلیفة المسیح الرابع اقتباس از خطاب جلسه سالانه فرمودہ 27 دسمبر 1982 حضرت خلیفہ المسح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے وقف جدید کے متعلق درج ذیل ارشادفرمایا: جیسا کہ ہر سال ہوتا چلا آرہا ہے امسال بھی وقف جدید نے نمایاں اضافہ کے ساتھ 9لاکھ تراسی ہزا ر وپے کا بجٹ پیش کیا ہے۔جہاں تک معلمین وقف جدید کا تعلق ہے وہ بڑی قربانی اور ہمت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔معلم کو بہت معمولی وظیفہ ملتا ہے بعض دفعہ انہیں بڑے سخت حالات در پیش ہوتے ہیں۔بعض اوقات ان کیلئے بیک وقت عزت نفس کو قائم رکھنا اور معمول کے مطابق زندگی گزارنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔مثلاً ان کے گھر والے کہیں اور رہتے ہیں اور وہ خود کہیں اور اب یہ ناممکن ہے کہ تھوڑے سے روپے میں جوان کو ملتا ہے اس کو تقسیم کر کے وہ دونوں زندہ رہ سکیں۔اس کے باوجود معلمین یہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں اور جماعت پر ان کا انحصار نہ ہو کیونکہ گزشتہ تجربہ بتا تا ہے کہ اگر گاؤں کی روٹیوں پر پلنے والا کوئی ملاں بن جائے تو اس میں تربیت کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اس لئے ان کو بعض اوقات ان حالات میں بڑی مشکل سے گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ بعض دفعہ معلمین مجبور ہو کر جماعت کے اخلاص کے نتیجہ میں اس کی خدمت کو قبول کر لیتے ہیں لیکن دو چار ماہ بعد انہوں نے جماعت سے کہا کہ اب ہم سے یہ چیز برداشت نہیں ہو سکتی۔آپ اس قصے کو بند کریں۔جیسے بھی ہوا، ہم گزارہ کرتے رہیں گے۔اب میں پھر وقف جدید کی طرف لوٹتا ہوں۔اس سلسلے میں ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہندوؤں میں جو تبلیغ ہو رہی ہے وہ اللہ کے فضل سے بہت خوشکن نتائج پیدا کر رہی ہے۔اسکے علاوہ خیراتی ہومیو پیتھی ادارہ بھی ہے۔پھر اپنی توفیق کے مطابق سندھی پشتو وغیرہ میں چھوٹے چھوٹے رسائل بھی شائع کرتے ہیں لیکن وقف جدید کی اصل خدمت ہندوؤں میں تبلیغ کرنا ہے جن کو پاکستان میں پہلے کلیۂ نظر انداز کیا گیا تھا۔میرے خیال میں پاکستان بننے کے بعد کی جماعت کی تاریخ میں پہلا پھل جو ہندوؤں میں سے ملا ہے وہ وقف جدید کو ملا ہے اور اب تو یہ کیفیت ہے کہ ہر سال ہزار، گیارہ سو ہندو شرک سے تو بہ کر کے توحید میں داخل ہورہے ہیں۔