خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 18 of 682

خطبات وقف جدید — Page 18

18 حضرت مصلح موعود موعود علیہ السلام بنا پھرتا ہے اور قرآن کہنا بھی نہیں آتا۔ق کی بجائے ک کہتا ہے۔اس کی زبان سے یہ لفظ نکلے ہی تھے کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید نے یکدم اپنا ہاتھ اٹھایا اور اسے مارنا چاہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی عبد الکریم صاحب سے کہا ان کا ہاتھ پکڑ لیں اور جب تک یہ لوگ اس مجلس سے اٹھ کر چلے نہ جائیں انھیں چھوڑیں نہیں۔اور صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کا یہ حال تھا کہ وہ کانپتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے مجھے چھوڑو میں اسے کچل کر رکھ دوں گا۔اس نے حضرت صاحب کی ہتک کی ہے۔پروفیسر عبداللہ صاحب جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے یو۔پی کے رہنے والے تھے اور سارے ہندوستان میں تماشے دکھاتے پھرتے تھے۔پھر وہ قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلیم حاصل کی اس وقت ان کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں تھا۔وہ پہلے بڑے بڑے سرکسوں کے مالک تھے قادیان آئے تو ان کی یہ حالت تھی کہ وہ مہمان خانے میں بیٹھ جاتے تھے اور اگر کوئی لڑکا آتا تو اسے سیر بین دکھا دیتے تھے اور وہ آنا یا دونی دے دیتا۔اور اس میں گزارہ کر لیتے۔کچھ عرصہ تک وہ پھیری کا کام بھی کرتے رہے۔جب وہ لوگ اس طرح گزارہ کر لیا کرتے تھے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے نو جوان اس طرح گزارہ نہ کرسکیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں لوگ اپنا وسیع کاروبار چھوڑ کر قادیان آگئے تھے اور وہاں پر کسی نہ کسی طرح اپنی روٹی کما لیتے تھے اور گزارہ کر لیتے تھے۔جو مالدار لوگ اس زمانے میں آئے ان کا بھی یہ حال تھا کہ انھوں نے اپنے سب مال لٹا دئے مثلاً سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراسی تھے۔ان کی تجارت بڑی وسیع تھی مگر انھوں نے اپنا سارا روپیہ آہستہ آہستہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دے دیا۔بعد میں جب وہ دیوالیہ ہو گئے تو ان کے ایک دوست سیٹھ لال جی، وال جی تھے اور وہ بھی بہت بڑے تاجر تھے سیٹھ صاحب نے انھیں تحریک کی کہ آپ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دعا کرایا کریں۔اس میں بڑی برکت ہوتی ہے۔اور پھر کہا میں آپ کو ماہوار نذرانہ کے طور پر ایک بڑی رقم بھجوایا کرتا تھا آپ بھی انھیں نذرانہ بھجوایا کریں۔چنانچہ انھوں نے ساڑھے تین سو روپیہ ماہوار بھجوانا شروع کر دیا معلوم ہوتا ہے کہ ان میں روحانیت پائی جاتی تھی۔ورنہ وہ سیٹھ عبد الرحمن مدراسی کو کہہ دیتے کہ آپ نے دعا کرا کے کیا لیا۔آپ کا تو پہلا کا روبار بھی نہ رہا۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ وہ خوب جانتے تھے کہ انھیں جو برکتیں ملی ہیں وہ روحانی ہیں۔اور ان کو بھی روحانی برکتیں ہی ملیں گی۔اس لئے انھوں نے سیٹھ عبدالرحمن مدراسی کی نصیحت پر عمل کرنا شروع کر دیا۔پھر ہمارے ایک دوست چوہدری رستم علی صاحب تھے پہلے وہ سپاہی تھے پھر کانٹیبل ہو گئے پھر