خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 17 of 682

خطبات وقف جدید — Page 17

17 حضرت مصلح موعود دفعہ خواجہ کمال الدین صاحب لاہور سے قادیان گئے تو انھوں نے حضرت مسیح مود عود علیہ السلام سے شکایت کی کہ پروفیسر صاحب بڑے تیز مزاج ہیں۔اگر کوئی ان کے سامنے حضور کو بُرا بھلا کہے تو وہ اسے گالیاں دینے لگ جاتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ خبردار اگر تو نے ان کو گالی نکالی تو میں تیرے منہ پر منگا ماروں گا تو کون ہوتا ہے جو حضرت صاحب کو گالیاں دے۔کچھ دنوں کے بعد پروفیسر صاحب قادیان آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انھیں بلایا اورفرمایا پروفیسر صاحب میں نے سنا ہے کہ آپکے سامنے مجھے کوئی بُرا بھلا کہے تو آپ اس سے لڑنے لگ جاتے ہیں آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے۔اور صبر اور تحمل سے کام لینا چاہئے اللہ تعالیٰ نے نہیں نرمی کی تعلیم دی ہے بختی کی تعلیم نہیں دی۔ان کی طبیعت بڑی تیز تھی یہ سنتے ہی ان کا چہرہ سرخ ہو گیا اور کہنے لگے میں یہ بات ماننے کے لئے بالکل تیار نہیں آپ کے پیر ( یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کو اگر کوئی بُرا بھلا کہے تو آپ فوراً اس سے مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور مجھے کہتے ہیں صبر کر خود تو کہتے ہیں کہ الا اے دشمن نادان و بے راہ بترس از تیغ بران صلى الله محمد بیا بنگر زغلمان محمد کرامت گرچه بے نام و نشان است یعنی اے مخاطب تو اگر محمد رسول اللہ ﷺ سے دشمنی کرتا ہے تو جان لے کہ محمد رسول الله الا اللہ خدا نے ایک تلوار بھی دی ہوئی ہے تو اس سے ڈر اور اگر تجھے یہ خیال ہے کہ اس زمانے میں محمد رسول اللہ ے کی کوئی کرامت نہیں تو محمد رسول اللہ اللہ کے غلاموں کے پاس آ اور ان سے کرامت دیکھ لے۔ان دنوں حضرت مسیح موعود نے لیکھرام کی بدزبانیوں کے مقابلے میں یہ شعر کہے تھے انہیں کی طرف پروفیسر عبداللہ صاحب نے اشارہ کیا اور کہا کہ آپکے پیر کو اگر کوئی برا بھلا کہتا ہے تو آپ فورا جوش میں آجاتے ہیں اور اسے مباہلہ کا چیلنج دے دیتے ہیں۔لیکن اگر کوئی میرے پیر کو گالیاں دے تو آپ کہتے ہیں صبر کرو۔میں ایسی بات ماننے کے لئے تیار نہیں۔صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کا بھی اسی قسم کا ایک واقعہ ہے ایک دفعہ میاں چٹو جو قریشی محمد حسین صاحب موجد مفرح عنبری لاہور والوں کے دادا تھے اور اہلِ قرآن میں سے تھے انھوں نے ایک عرب کو جو ہندوستان میں آیا ہوا تھا لکھنؤ سے بلایا۔ان کی غرض یہ تھی کہ اگر وہ شخص اہلِ قرآن ہو گیا تو عرب میں یہ مذہب پھیل جائے گا۔میاں چٹو اس عرب کو قادیان لائے اور حضرت مسیح موعود سے ملاقات کرائی۔گفتگو کے دوران میں وفات مسیح کا ذکر آ گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام چونکہ پنجابی تھے اور آپ مولویوں کی طرح تلفظ ادا نہیں کرتے تھے اسلئے آپ نے سادہ طریق پر قرآن کہہ دیا اس پر وہ عرب کہنے لگا کہ میچ