خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 16 of 682

خطبات وقف جدید — Page 16

16 حضرت مصلح موعود یہ اصل فقرہ ہے جو انھیں کہنا چاہئے مگر وہ یہ فقرہ نہیں کہتے۔مگر یہ کہتے ہیں کہ ہماری طبیعت کا اس طرف لگاؤ ہی نہیں حالانکہ خدا تعالیٰ تو کہتا ہے کہ ہم نے ہر انسان کو اعلیٰ قو تیں دے کر بھیجا ہے اور اسے احسنِ تقویم میں پیدا کیا ہے۔اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ ہماری طبیعت کا اس طرف لگاؤ نہیں تو یہ محض بہانہ ہوتا ہے دراصل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے کہ دیا کہ ہم فلاں کام نہیں کرتے تو دوسرے ناراض ہونگے۔اس لئے وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہماری طبیعت کا اس سے لگاؤ نہیں۔پس ضرورت اس بات کی ہے کہ تم اپنے اندر روحانیت پیدا کرو اور تقویٰ پیدا کر و بھلا یہ تو دیکھو کہ اب تو صدر انجمن احمد یہ یا تحریک جدید کچھ نہ کچھ دیتی ہے لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ کیا تھا تو ان کے پاس کونسا روپیہ تھا۔جب خدا تعالیٰ نے آپ کو فر مایا کہ اٹھ اور دنیا کو کہہ دے کہ میں مسیح موعود ہوں تو آپ کے پاس کوئی پیسہ نہ تھا پھر بھی آپ کھڑے ہو گئے۔اور لوگوں سے کہنا شروع کر دیا کہ میں مسیح موعود ہوں اور اس کی پہلی جزاء آپکو یہ لی کہ آپکو دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے پتھر پڑنے شروع ہوئے لیکن آپ پھر بھی کام کرتے رہے۔اور کبھی بھی خدا تعالیٰ سے یہ نہ کہا کہ اے اللہ تو نے مجھے کس مصیبت میں ڈال دیا ہے۔کھڑا تو تو نے مجھے مسیح موعود بنا کر کیا تھا اور یہاں یہ صورتِ حال ہے کہ چاروں طرف سے پتھر پڑ رہے ہیں۔آپ ایک دفعہ لا ہور تشریف لے گئے وہاں ایک اور شخص بھی تھا جس نے مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا ہوا تھا اس کا بھائی بعد میں تو بہ کر کے احمدی ہو گیا تھا بڑا سادہ آدمی تھا۔داڑھی اس نے سکھوں والی رکھی ہوئی تھی۔وہ قادیان میں بھی آیا کرتا تھا۔ایک دفعہ میں لاہور گیا تو وہ دواند ھے پکڑ کر لے آیا اور کہنے لگا کہ یہ میرا شکار ہیں وہ سارا دن ان کی خدمت کرتا تھا۔کھانا کھلاتا تھا، ان کے کپڑے دھوتا تھا اور جوئیں نکالتا تھا یہ سلوک دیکھ کر انھوں نے احمدی تو ہونا ہی تھا سنا ہے کہ اب وہ فوت ہو گیا ہے اس کا بھائی سخت مخالف تھا ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام انارکی میں سے گزر رہے تھے اور آپ کے ساتھ شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم اور بعض اور دوست تھے کہ اس نے پیچھے سے آکر آپ کی پیٹھ پر اچانک لات ماری جس سے حضرت مسیح موعود گر گئے شیخ رحمت اللہ صاحب اسے مارنے پر آمادہ ہوئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا شیخ صاحب اسے کچھ نہ کہیں اس نے مجھے یہ سمجھ کر مارا ہے کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک کرتا ہوں۔اگر اسے پتہ ہوتا کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک نہیں کرتا تو یہ ایسی حرکت ہی کیوں کرتا۔صلى الله ہماری جماعت میں ایک پروفیسر عبداللہ صاحب ہوا کرتے تھے۔وہ واقعہ میں پروفیسر نہیں تھے بلکہ ان کا نام پروفیسر اس لئے پڑ گیا تھا کہ وہ شعبدہ بازی اور مداریوں کے کرتب وغیرہ جانتے تھے۔ایک